امام نسائی کی مشہور كتاب فضائل الصحابہ کا ترجمہ، تحقیق اور تخریج۔
فہرست
- باب ١ – فضل أبي بكر رضي اللّٰه عنه
- باب ٢ – فضل أبي بكر وعمر رضي اللّٰه عنهما
- ١٠ – ایمان کی گواہی
- ١١ – واقعہ گائے و بھیڑیہ
- ١٢ – واقعہ گائے و بھیڑیہ
- ١٣ – واقعہ گائے و بھیڑیہ
- ١٤ – واقعہ عمر و علی
- ١٥ – واقعہ دلو اور خلیفۂ اول و دوم
- ١٦ – محبوبہ عائشہ اور ان کے والد
- ١٧ – خلیفہ نامزد نہ کرنا۔۔۔ مگر کس کو پسند کرنا؟
- ١٨ – محدثین اور عمر بن خطاب
- ١٩ – محدثین اور عمر بن خطاب
- ٢٠ – خواب میں عمر کی قمیص
- ٢١ – خواب میں پیالہ
- ٢٢ – خواب میں دودھ کا پیالہ
- ٢٣ – جنت میں سفید محل
- ٢٤ – جنت میں محل اور عمر کی غیرت
- ٢٥ – جنت میں سونے کا محل
- ٢٦ – جنت میں سونے کا محل اور قریشی عمر بن خطاب
- ٢٧ – عمر کی غیرت
- ٢٨ – عمر کی غیرت اور عورتوں کا پردہ
- باب ٣ – أَبُو بكر وَعمر وَعُثْمَان وَعلي رَضِي اللّٰه عَنْهُم
- باب ٤ – فَضَائِل عَليّ رَضِي اللّٰه عَنهُ
باب ١ – فضل أبي بكر رضي اللّٰه عنه
١ – دروازہ مسجد
حدیث
أخبرنا أبو عبد الرحمن أحمد بن شعيب بن علي النسائي قراءة عليه، قال أنا عمرو بن علي. قال أنا وهب بن جرير. قال قال أنا أبي عن يعلى ابن حكيم عن عكرمة عن ابن عباس. قال خرج رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه، عاصب رأسه بخرقة. فقعد على المنبر، ثم حمد اللّٰه عزوجل وأثنى عليه، ثم قال: إنه ليس من الناس أمن علي بنفسه وماله من أبي بكر بن أبي قحافة. ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكن خلة الإسلام أفضل. سدوا عني كل خوخة في المسجد، غير خوخة أبي بكر.
ترجمہ
سیدنا عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم گھر سے باہر تشریف لائے، سر پہ پٹی باندھ رکھی تھی، یہ مرض الموت کا واقعہ ہے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے، اللّٰه تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، اور فرمایا مجھ پر جان و مال کے اعتبار سے ابن ابی قحافہ ابو بکر صدیق کے احسانات سب سے زیادہ ہیں۔ میرے کوئی خلیل ہوتے تو وہ ابو بکر ہوتے، لیکن اسلام کی خلت ہی افضل ہے۔ مسجد کے تمام دریچے بند کردیں، ابو بکر کا دریچہ کھلا رہنے دیں۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 467
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6860
- شرح اصول اعتقاد اھل السنہ والجماعہ رقم الحدیث 2407
- المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 11938
- شرح مشکل الآثار رقم الحدیث 1001
- مسند ابی یعلیٰ رقم الحدیث 2584
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8048
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1463
- مسند احمد رقم الحدیث 2432
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 67، 134
- دلائل النبوہ للبیہقی 7/176
تحقیق
وسندہ صحیح
٢ – صحبت ومال میں فضیلت
حدیث
أخبرنا عبد الملك بن عبد الحميد، قال نا القعنبي عن مالك عن أبي النضر عن عبيد بن حنين عن أبي سعيد الخدري. قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: إن أمن الناس علي في صحبته وماله أبو بكر، ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت أبا بكر خليلا، ولكن أخوة الإسلام أفضل، ولا يبقين في المسجد خوخة إلا خوخة أبي بكر.
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر سب سے زیادہ ابو بکر کی صحبت و مال کے احسانات ہیں۔ میرا کوئی ہوتا تو وہ ابو بکر ہوتا، لیکن اسلامی بھائی چارہ بہتر ہے۔ مسجد کے تمام دریچے بند کردیں، اور ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ کا دریچہ کھلا رہنے دیں۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 466، 3654،3904
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2382
- مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 31926
- مسند احمد رقم الحدیث 11134
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3660
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1227
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8049
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6594، 6861
- الشریعہ للاجری البغدادی رقم الحدیث 1267
- حدیث ابی الفضل الزھری البغدادی رقم الحدیث 114
- شرح اصول اعتقاد اھل السنہ والجماعہ اللالکائی رقم الحدیث 2404
- فضائل الخلفاء الراشدین لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 74
- المدخل الی السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 58
- دلائل النبوہ للبیہقی 7/174
تحقیق
وسندہ صحیح
٣ – خلیل
حدیث
أخبرنا أزهر بن جميل، قال أنا خالد بن الحارث، قال أنا شعيب عن إسماعيل بن رجاء عن عبد اللّٰه بن أبي الهذيل عن أبي الأحوص عن عبد اللّٰه عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال: لو اتخذت خليلا لاتخذت أبا بکر خليلا، ولكنه أخي وصاحبي، وقد اتخذ صاحبكم خليلا.
ترجمہ
سیدنا عبد اللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا اگر میرے کوئی خلیل ہوتے تو ابو بکر رضی اللّٰه عنہ ہوتے، لیکن ابو بکر رضی اللّٰه عنہ میرے بھائی اور میرے صحابی ہیں۔ البتہ مجھے اللّٰه نے اپنا خلیل بنالیا ہے۔
تخریج
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2383
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8050
- تثبیت الامامۃ وترتیب الخلافۃ لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 31
- فضائل الخلفاء الراشدین لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 21
- مسند ابی ابی شیبۃ رقم الحدیث 320
- مسند احمد رقم الحدیث 4182
- مسند ابی یعلی الموصلی رقم الحدیث 5249
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6856
- مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 312
- المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 10107
- المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 777
- مسند الشاشی رقم الحدیث 720، 721، 722، 723، 724، 725، 726
تحقیق
وسندہ صحیح
٤ – خلیل مزید
حدیث
أخبرنا عمرو بن علي عن عبد الرحمن، قال ثنا سفيان عن الأعمش عن عبد اللّٰه بن مرة عن أبي الأحوص عن عبد اللّٰه. قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إني أبرأ إلى كل خليل من خلته. ولو كنت متخذا خليلا لاتخذت ابن أبي قحافة خليلا، وإن صاحبكم خليل اللّٰه.
ترجمہ
سیدنا عبد اللّٰه بن مسعود رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا میں ہر خلیل سے بری ہوں۔ میرے کوئی خلیل ہوتے تو ابن ابی قحافہ یعنی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللّٰه عنہ ہوتے، لیکن تمہارا نبی اللّٰه پاک کا خلیل ہے۔
تخریج
- مسند احمد رقم الحدیث 3580، 3689، 3879، 4121
- فضائل صحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 671
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 93
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1226
- مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 2053
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8051
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3867
- معجم ابن عساکر رقم الحدیث 195
- الطبقات الکبری لابن سعد 3/131
- مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 31923،31720
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6855
- مسند حمیدی رقم الحدیث 113
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3655
تحقیق
وسندہ صحیح۔
مصنف کی پیش کردہ سند میں سفیان ثوری اور اعمش کی تدلیس ہے لیکن یہ حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے۔
درج ذیل آئمہ محدثین نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے:
- امام مسلم رحمہ اللّٰه (صحیح مسلم رقم 2383)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰہ (صحیح ابن حبان 6855)
- امام بغوی رحمہ (شرح السنہ للبغوی 3867)
- امام ترمذی رحمہ اللّٰہ (سنن ترمذی رقم 3655)
٥ – محبوب
حدیث
أخبرنا محمد بن عيسى عن ابن المبارك عن إسماعيل عن قيس عن عمرو بن العاص. قال قلت يا رسول اللّٰه أي الناس أحب إليك؟ قال: عائشة. قلت: ليس من النساء؟ قال: أبوها.
ترجمہ
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللّٰه عنہ نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سے پوچھا، لوگوں میں سے آپ کی محبوب شخصیت کون ہے؟ فرمایا عائشہ۔ عرض کیا عورتوں میں سے نہیں بلکہ مردوں میں سے؟ فرمایا عائشہ کے والد۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3662، 4358
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2384
- مسند احمد رقم الحدیث 17811
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3885
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 7106,6900
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8052
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1235
- شرح مشکل الآثار للطحاوی رقم الحدیث 5303,5304
- المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 114,116
- الابانۃ الکبری لابن بطۃ رقم الحدیث 199,200
- تثبیت الامامۃ وترتیب الخلافۃ لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 13
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 13100,21071
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3869
تحقیق
وسندہ ضعیف، لکن الحدیث صحیح۔
یہ سند اسماعیل بن ابی خالد کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اس روایت کو درج ذیل آئمہ محدثین نے صحیح کہا ہے:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه (صحیح بخاری 3662)
- امام مسلم رحمہ اللّٰه (صحیح مسلم 2384)
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه (سنن ترمذی 3885,3886)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه (صحیح ابن حبان رقم الحدیث 7106)
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے تو فرمایا ہے کہ یہ حدیث متفق علیہ صحتہ (شرح السنہ رقم 3869)
٦ – عبادات و احسان
حدیث
أخبرنا عبد الرحمن بن إبراهيم، قال ثنا هارون، قال ثنا يزيد عن أبي حازم عن أبي هريرة. قال: قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: من أصبح منكم اليوم صائما؟ قال أبو بکر: أنا. قال: فمن أطعم اليوم مسكينا؟ قال أبو بکر: أنا. قال: فمن شهد منكم اليوم جنازة؟ قال أبو بکر: أنا. قال: فمن عاد منكم اليوم مريضا؟ قال أبو بکر: أنا.
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے پوچھا، آج روزہ کس نے رکھا ہے؟ ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے کہا، میں۔ فرمایا، آج مسکین کو کھانا کس نے کھلایا ہے؟ ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے کہا، میں۔ فرمایا، آج جنازہ میں کون حاضر ہوا؟ ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے کہا، میں۔ فرمایا، آج مریض کی عیادت کس نے کی؟ ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے کہا، میں۔
تخریج
- صحیح مسلم رقم الحدیث 1028
- مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 9754
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8053
- صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 2131
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 7830
- شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 8764
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 1647
تحقیق
وسندہ صحیح
اس روایت کو درج ذیل آئمہ کرام نے صحیح کہا ہے:
- امام مسلم رحمہ اللّٰه (صحیح مسلم رقم الحدیث 1028)
- امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه (صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 2131)
تنبیہ
صحیح مسلم وغیرہ میں درج ذیل الفاظ بھی ہیں:
مااجتمعن في امرئ إلا دخل الجنة۔
آپ نے فرمایا ، جس شخص میں یہ خصلتیں جمع ہو جائیں تو وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
٧ – جہاد و صدقہ
حدیث
أخبرنا عمرو بن عثمان بن سعيد، قال ثنا أبي عن شعيب عن الزهري، قال أخبرني حميد بن عبد الرحمن أن أبا هريرة قال: سمعت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: من أنفق زوجين من شيء من الأشياء في سبيل اللّٰه دعي من أبواب الجنة. هذا خير، وللجنة أبواب. فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة، ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد، ومن كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة، ومن كان من أهل الصيام دعي من الريان. قال أبو بکر: هل على الذي يدعى من تلك الأبواب من ضرورة؟ فهل يدعى منها أحد؟ يا رسول اللّٰه قال: نعم، وأرجو أن تكون منهم.
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے کہا، جو شخص اپنے مال میں سے جوڑا جوڑا کچھ اللّٰہ کے راستے میں خرچ کرے تو جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا، 'آؤ یہ بہتر ہے'۔ جنت کے کئی دروازے ہیں، جو نمازی ہوں گے انہیں باب الصلاۃ کی طرف سے پکارا جائے گا، مجاہدین کو باب الجھاد سے پکارا جائے گا، صدقہ کرنے والوں کو باب الصدقہ سے، اور روزے داروں کو باب الریان سے بلایا جائے گا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے پوچھا، یا رسول اللّٰہ، کیا ضروری ہے کہ جس کا استقبال انہی دروازوں سے ہو؟ فرمایا، جی ہاں ہوگا، اور مجھے امید ہے کہ آپ بھی ان میں سے ہوں گے۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3666
- صحیح مسلم رقم الحدیث 1027
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3674
- سنن نسائی رقم الحدیث 2439
- صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 2480
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 3418
تحقیق
وسندہ صحیح
درج ذیل محدثین نے اس روایت کو صحیح کہا ہے:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه (صحیح بخاری رقم الحدیث 3666)
- امام مسلم رحمہ اللّٰه (صحیح مسلم رقم الحدیث 1027)
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه (سنن ترمذی رقم الحدیث 3674)
- امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه (صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 2480)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه (صحیح ابن حبان رقم الحدیث 3418)
- امام حاکم رحمہ اللّٰه (مستدرک حاکم رقم 2439)
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے کہا ھذا حدیث متفق علی صحتہ (شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 1635)
٨ – بیعت
حدیث
أخبرنا قتيبة بن سعيد، قال أنا حميد بن عبد الرحمن عن سلمة ابن نبيط عن نعيم عن نبيط عن سالم بن عبيد. قال: وكان من أصحاب الصفة. قال: قالت الأنصار منا أمير ومنكم أمير. قال عمر: سفيان في غمد واحد، إذا لا يصلحان. ثم أخذ بيد أبي بکر، فقال: من له هذه الثلاث؟ إذ يقول لصاحبه من صاحبه؟ إذ هما في الغار من هما؟ إن اللّٰه معنا، مع من؟ ثم بايعه. ثم قال: بايعوا. فبايع الناس أحسن بيعة وأجملها.
ترجمہ
اصحاب صفہ والے سیدنا سالم بن عبید رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کی وفات کے بعد انصار کہنے لگے، 'ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہوگا'۔ سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ فرمانے لگے، ایک نیام میں دو تلواریں، پھر سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کا ہاتھ تھاما۔ فرمایا یہ تین شرف کسے عطا ہوئے: اذ یقول لصاحبہ، رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کا ساتھی کون تھا، اذ ھما فی الغار، غار میں یہ دو کون تھے، ان اللّٰه معنا۔ اللّٰه کی نصرت و تائید کن کے ساتھ تھی۔ پھر سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ نے سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کی بیعت کی، اور فرمایا ان کی بیعت کیجیئے۔ تو صحابہ نے بہترین انداز میں بیعت کر لی۔
تخریج
- صحیح ابن خزیمہ رقم 1624
- المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 6367
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1234
تحقیق
وسندہ صحیح
اس روایت کو صحیح کہنے والے:
- امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه (صحیح ابن خزیمہ رقم 1624)
- حافظ بوصیری رحمہ اللّٰه نے کہا: ھذا اسنادہ صحیح ورجالہ ثقات (زوائد ابن ماجہ)
- علامہ ھیثمی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں: رواہ الطبرانی ورجالہ ثقات (مجمع الزوائد رقم الحدیث 8935)
٩ – احسان و وفا
حدیث
أخبرنا محمد بن عبد العزيز بن غزوان قال ثنا أبو معاوية قال ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: ما نفعنا مال، ما نفعنا مال أبي بكر. قال فبكى أبو بکر وقال: وهل أنا ومالي إلا لك؟
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا جتنا فائدہ ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ کے مال نے مجھے دیا، اتنا فائدہ کسی کے مال نے نہیں دیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللّٰہ عنہ یہ سن کر رونے لگے، عرض کیا آقا، میں اور میرا مال آپ ہی کے لیے ہیں۔
تخریج
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 94
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6858
- مسند احمد رقم الحدیث 7446
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 25
تحقیق
وسندہ ضعیف
سند میں اعمش اور ابو معاویہ دونوں مدلس راوی ہیں۔
مسند حمیدی رقم الحدیث 252، مسند ابی یعلی رقم الحدیث 4418,4905، السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1230، فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 28,29، الشریعہ للاجری رقم الحدیث 1261,1262، الابانۃ الکبری لابن بطۃ رقم الحدیث 169,170 وغیرہ میں حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللّٰه عنہا سے روایت آتی ہے وہ زھری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اس کے علاوہ بھی اسناد موجود ہیں وہ بھی ضعیف غیر ثابت ہیں۔
تنبیہ
البتہ یہ بات صحیح بخاری وغیرہ کے اندر موجود ہے، کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی صحبت اور مال کی وجہ سے ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کا مجھ پر سب سے زیادہ احسان ہے۔
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3654
باب ٢ – فضل أبي بكر وعمر رضي اللّٰه عنهما
١٠ – ایمان کی گواہی
حدیث
أخبرنا إسحاق بن إبراهيم قال أنا أبو داود الحفري عمر ابن سعد قال ثنا سفيان عن أبي الزناد عن عبد الرحمن الأعرج عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال: بينما رجل يسوق بقرة فأراد أن يركبها، قالت: إنا لم نخلق لهذا، إنما خلقنا ليحرث علينا. فقال من حوله: سبحان اللّٰه، سبحان اللّٰه. فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: آمنت به أنا وأبو بکر وعمر، وما هما. ثم قال: وبينما رجل في غنم له فجاء الذئب فأخذ شاة منها، فتبعها الراعي ليأخذها. فقال الذئب: فكيف تصنع يوم السباع، يوم لا راعي لها غيري؟ فقال من حوله: سبحان اللّٰه. فقال: آمنت به أنا وأبو بکر وعمر، وما هما. ثم
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا، ایک آدمی گائے ہانکتے ہوئے لے جا رہا تھا، اس نے اس پر سوار ہونا چاہا، گائے کہنے لگی ہم سواری کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ صحابہ تعجب سے کہنے لگے سبحان اللّٰه، سبحان اللّٰه۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا، میں اور ابو بکر و عمر اس بات پر ایمان لے آئے، جبکہ ابو بکر و عمر رضی اللّٰه عنہما اس وقت نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم کے پاس موجود نہیں تھے۔ پھر فرمایا، ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا، بھیڑیا اس کی بکری اٹھا کر لے گیا، چرواہے نے بکری چھیننے کے لیے اس کا پیچھا کیا تو بھیڑیا بولا، 'آپ ان دنوں میں کیا کریں گے جب بھیڑیوں کا راج ہو گا اور میرے سوا ان بکریوں کا کوئی رکھوالا نہ ہو گا؟' صحابہ کہنے لگے سبحان اللّٰه، سبحان اللّٰه۔ نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا، میں اور ابو بکر و عمر ایمان لے آئے جبکہ ابو بکر و عمر رضی اللّٰه عنہما وہاں موجود ہی نہیں تھے۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3471، 3663
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2388
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8057، 8058، 8059
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6903
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3889
تحقیق
وسندہ صحیح
درج ذیل آئمہ کرام رحمہم اللّٰه نے اس روایت کو صحیح کہا ہے:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه (صحیح بخاری رقم الحدیث 3471، 3663)
- امام مسلم رحمہ اللّٰه (صحیح مسلم رقم الحدیث 2388)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه (صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6903)
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے تو کہا ہے، ھذا حدیث متفق علی صحتہ (شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3889)
١١ – واقعہ گائے و بھیڑیہ
حدیث
أخبرنا هارون بن محمد بن بكار بن بلال عن محمد بن عيسى وهو ابن القاسم بن سميع، قال: ثنا عبيد اللّٰه بن عمر عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: بينما رجل يسوق بقرة أراد أن يركبها، فأقبلت عليه، فقالت: إنا لم نخلق لهذا، إنما خلقنا للحراثة۔ فقال من حوله: سبحان اللّٰه، تكلمت بقرة۔ فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: فإني آمنت به وأبو بکر وعمر، وليس هما۔ ثم قال: بينما رجل في غنم له إذ أقبل ذئب فأخذ شاة فطلبتها فأخذتها منه، فقال لي: كيف لها يوم السبع حيث لا يكون لها راعی غیري؟ قالوا: سبحان اللّٰه، تكلم ذئب۔ فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: فإني آمنت به وأبو بکر وعمر، وليسا ثم
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں، رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف توجہ کر کے فرمایا: ایک آدمی گائے ہانک کر لے جا رہا تھا، اس نے اس پر سوار ہونا چاہا، گائے کہنے لگی: ہم سواری کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کی گئیں ہیں۔ لوگ کہنے لگے: سبحان اللّٰه، گائے نے بات کی۔ آپ نے فرمایا: میں اور ابو بکر و عمر اس بات پر ایمان لائے، جب کہ ابو بکر و عمر رضی اللّٰه عنہما اس وقت نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم کے پاس موجود نہیں تھے۔ پھر ایک چرواہے نے کہا: میں بکریاں چرا رہا تھا کہ ایک بھیڑیا بکری اٹھا لے گیا، چرواہے نے بکری اس سے چھین لی تو بھیڑیا بولا: آپ ان دنوں میں کیا کریں گے جب بھیڑیوں کا راج ہوگا اور میرے سوا ان بکریوں کا کوئی رکھوالا نہ ہوگا؟ صحابہ کہنے لگے: سبحان اللّٰه، بھیڑیا نے بات کی۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں اور ابو بکر و عمر ایمان لے آئے جبکہ ابو بکر و عمر رضی اللّٰه عنہما وہاں موجود نہیں تھے۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3471، 3663
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2388
تحقیق
صحیح
مزید تحقیق و تخریج حدیث نمبر 10 کے تحت گزر چکی ہے
١٢ – واقعہ گائے و بھیڑیہ
حدیث
أخبرنا الربيع بن سليمان قال ثنا شعيب بن الليث عن أبيه عن عقيل عن ابن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال انصرف رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم من الصلاة فأقبل على أصحابه فقال بينما رجل يسوق بقرة فبدا له أن يركبها فأقبلت عليه فقالت إنا لم نخلق لهذا إنما خلقنا للحراثة فقال من حوله سبحان اللّٰه سبحان اللّٰه فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فإني آمنت به أنا وأبو بكر وعمر وبينما رجل في غنمه إذ جاء الذئب فأخذ شاة من غنمه فطلب راعيها فلما أدركه لفظها وأقبل عليه فقال من لها يوم السبع لا يكون لها راع غيري فقال من حوله سبحان اللّٰه سبحان اللّٰه فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فإني آمنت به أنا وأبو بكر وعمر
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ایک دن نماز یعنی فجر کے بعد اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ایک آدمی گائے ہانک کر لے جا رہا تھا اس نے اس سوار ہونا چاہا گائے کہنے لگی ہم سواری کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لئے پیدا کی گئیں ہیں صحابہ تعجب سے کہنے لگے سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ابو بکر وعمر اس بات پر ایمان لائے پھر فرمایا ایک مرتبہ ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیا اس کی بکری اٹھا کر لے گیا چرواہے نے اس کا پیچھا کیا جب وہ بھیڑیے کے پاس پہنچ گیا تو بھیڑیے نے بکری چھوڑ دی اور اس کی طرف متوجہ ہو کر بولا آپ ان دنوں میں کیا کریں گے جب بھیڑیوں کا راج ہو گا اور میرے سوا ان بکریوں کا کوئی رکھوالا نہ ہو گا صحابہ تعجب سے کہنے لگے سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ابو بکر وعمر ایمان لے آئے
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3690
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2388
تحقیق
وسندہ حسن
لیکن حدیث صحیح ہے
١٣ – واقعہ گائے و بھیڑیہ
حدیث
أخبرنا سليمان بن داود عن ابن وهب قال أخبرني يونس عن ابن شهاب قال أخبرني سعيد بن المسيب وأبو سلمة بن عبد الرحمن أنهما سمعا أبا هريرة يقول قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بينما رجل يسوق بقرة قد حمل عليها التفتت إليه البقرة فقالت إني لم أخلق لهذا ولكنا خلقنا للحرث فقال الناس سبحان اللّٰه تعجبا بقرة تتكلم فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فإني أومن به وأبو بكر وعمر قال أبو هريرة قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بينا راعي في غنمه عدا الذئب فأخذ شاة فطلبه الراعي يستنقذها منه فالتفت الذئب إليه فقال من لها يوم السبع يوم ليس لها راعي غيري قال الناس سبحان اللّٰه قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فأني أومن بذلك أنا وأبو بكر وعمر
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک آدمی گائے ہانک کر لے جا رہا تھا وہ اس پر سوار ہوا تو گائے اس کی طرف متوجہ ہوئی اور کہنے لگی ہم سواری کے لئے نہیں بلکہ کھیتی کے لئے پیدا کی گئیں ہیں صحابہ تعجب سے کہنے لگے سبحان اللّٰہ گائے نے بات کی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ابو بکر وعمر بات پر ایمان لے آئے ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ ایک چرواہا بکریاں چرا رہا تھا کہ بھیڑیا اس کی بکری اٹھا لے گیا چرواہے نے بکری چھیننے کے لئے اس کا پیچھا کیا تو بھیڑیا اس کی طرف متوجہ ہوا اور بولا آپ ان دنوں میں کیا کریں گے جب بھیڑیوں کا راج ہو گا اور میرے سوا ان بکریوں کا کوئی رکھوالا نہ ہو گا صحابہ تعجب سے کہنے لگے سبحان اللّٰہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ابو بکر وعمر ایمان لے آئے
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3690
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2388
تحقیق
حدیث صحیح
١٤ – واقعہ عمر و علی
حدیث
أخبرني محمد بن آدم قال ثنا ابن المبارك عن عمر بن سعيد عن ابن أبي مليكة قال سمعت ابن عباس يقول وضع عمر على سريره اكتنفه الناس يصلون عليه ويدعون قبل يرفع وأنا فيهم فلم يرعني إلا رجل قد أخذ منكبي من ورائي فالتفت إلى علي يترحم على عمر ثم قال ما خلفت أحدا أحب إلي من أن ألقى اللّٰه بمثل عمله منك وايم اللّٰه إن كنت لأرى أن يجعلك اللّٰه مع صاحبيك وذلك أني كنت أسمع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول ذهبت أنا وأبو بكر وعمر ودخلت أنا وأبو بكر وعمر وخرجت أنا وأبو بكر وعمر وإن كنت لأظن أن يجعلك اللّٰه معهما
ترجمہ
سیدنا عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللّٰه عنہ کی میت چار پائی پر رکھ دی گئی تھی جنازہ اٹھانے سے پہلے لوگ آپ کے ارد گرد موجود آپ کے لیے استغفار اور دعا کر رہے تھے میں بھی بھی ان میں شامل تھا ایک شخص نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا، مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت علی رضی اللّٰه عنہ تھے، میں سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ کے لیے دعائے رحمت کی اور فرمایا، عمر ، آپ کے بعد بعد اب کوئی نہیں جس کے عمل کی مثال بنا کر میں اللّٰه کے پاس جانا چاہوں، مجھے یقین تھا کہ اللّٰہ آپ کو آپ کے ساتھیوں، یعنی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ، کے ساتھ جگہ دے گا میں اکثر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے سنا کرتا تھا کہ میں ابو بکر اور عمر گئے ، میں ابو بکر اور عمر داخل ہوئے ، میں ابو بکر اور عمر نکلے مجھے یقین تھا کہ اللّٰہ آپ کو آپ کے ساتھیوں کے ساتھ جگہ دے گا
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3685
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2389
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 98
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8061
- الاعتقاد للبیہقی 1/362
تحقیق
وسندہ صحیح
١٥ – واقعہ دلو اور خلیفۂ اول و دوم
حدیث
أخبرني عمرو بن عثمان قال ثنا محمد بن حرب عن الزبيدي عن الزهري عن سعيد أن أبا هريرة قال سمعته رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول بينما أنا نائم رأيتني على قلبي عليها دلوا فنزعت منها ما شاء اللّٰه ثم أخذها ابن أبي قحافة فنزع ذنوبا أو ذنوبين وفي نزعه ضعف ول يغفر اللّٰه له ثم استحالت الدلو غربا فأخذها عمر بن الخطاب فلم أر عبقريا من الناس ينزع نزع ابن الخطاب حتى ضرب الناس بعطن
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب دیکھا کہ ایک کنویں پر ہوں اور اس سے ڈول پڑا ہے، میں نے اس سے حسب ضرورت پانی نکال لیا۔ پھر ڈول ابن ابی قحافہ یعنی سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے لے لیا انہوں نے قدرے ضعف کے ساتھ ایک یا دو ڈول کھینچے، اللّٰه ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر ڈول بڑا ہو گیا تو عمر بن خطاب نے پکڑ لیا ان جیسا عبقری میں نے دیکھا ہی نہیں وہ ڈول کھینچتے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے بٹھا دیا۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3682
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2392
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3881
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 16593
- فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الاصبهانی رقم الحدیث 175
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8062
- مسند الشامیین للطبرانی رقم الحدیث 640,1726
تحقیق
وسندہ صحیح
درج ذیل محدثین نے صحیح کہا ہے
- امام بخاری رحمہ اللّٰه [صحيح البخاري، رقم الحدیث 3682]
- امام مسلم رحمہ اللّٰه [صحيح مسلم، رقم الحدیث 2392]
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے فرمایا: هذا حدیث متفق علی صحته [شرح السنہ للبغوی، رقم الحدیث 3881]
تنبیہ
امام زہری رحمہ اللّٰه کے سماع کی صراحت کئی کتابوں میں موجود ہے مثلاً شرح السنہ، فضائل الخلفاء الراشدین لأبی نعیم الاصبهانی میں
١٦ – محبوبہ عائشہ اور ان کے والد
حدیث
أخبرنا عبيد اللّٰه بن سعيد قال ثنا يحيى بن حماد قال أنا عبد العزيز بن المختار عن خالد الحذاء عن أبي عثمان قال حدثني عمرو بن العاص قال استعملني رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على جيش ذات السلاسل فأتيته فقلت يا رسول اللّٰه أي الناس أحب إليك قال عائشة قلت من الرجال قال أبوها قلت ثم من قال فعد رجالا قال أبو عبد الرحمن بعض حروف أبي عثمان لم تصح
ترجمہ
سیدنا حضرت عمرو بن عاص رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ ذات السلالسل میں رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے مجھے امیر لشکر بنایا۔ میں آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللّٰه کے رسول، آپ کو سب سے زیادہ محبت کس کے ساتھ ہے؟ فرمایا عائشہ سے۔ عرض کیا مردوں میں سے؟ فرمایا عائشہ کے والد سے۔ عرض کیا پھر؟ فرمایا پھر عمر سے۔ تو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے چند صحابہ کا ذکر کیا۔
ابو عبد الرحمن یعنی امام نسائی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں ابو عثمان کے بیان کردہ بعض الفاظ ثابت نہیں ہیں
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 4358، 3662
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2384
- مسند احمد رقم الحدیث 17811
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3885
تحقیق
وسندہ صحیح
درج ذیل محدثین نے اس روایت کو صحیح کہا ہے
- امام بخاری رحمہ اللّٰه [صحيح البخاري، رقم الحدیث 4358، 3662]
- امام مسلم رحمہ اللّٰه [صحيح مسلم، رقم الحدیث 2384]
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه [سنن ترمذی، رقم الحدیث 3885] — قال: هذا حدیث حسن صحیح
- امام بغوی رحمہ اللّٰه — قال: هذا حدیث متفق علی صحته
- حافظ جورقانی رحمہ اللّٰه — قال: هذا حدیث صحیح ۔۔الخ
١٧ – خلیفہ نامزد نہ کرنا۔۔۔ مگر کس کو پسند کرنا؟
حدیث
أخبرنا زكريا بن يحيى قال ثنا إسحاق قال أنا وكيع قال ثنا أبو العميس عن ابن أبي مليكة عن عائشة قالت قبض رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ولم يستخلف قالت وقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم لو كنت مستخلفا أحدا لاستخلفت أبا بكر وعمر
ترجمہ
(سیدہ امی) عائشہ رضی اللّٰه عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے تو فرمایا کہ میں اگر کسی کو خلیفہ منتخب کرتا تو ابو بکر یا عمر کو کرتا۔
تخریج
- مسند احمد رقم الحدیث 24346
- مسند إسحاق بن راهویہ رقم الحدیث 1253
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8064
- تاریخ دمشق لابن عساکر 30/270
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 203
تحقیق
وسندہ صحیح۔
امام ابن عساکر رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو محفوظ قرار دیا ہے۔
١٨ – محدثین اور عمر بن خطاب
حدیث
أخبرنا قتيبة بن سعيد قال أنا الليث عن ابن عجلان عن سعد بن إبراهيم عن أبي سلمة عن عائشة قالت قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قد كان يكون في الأمة محدّثون فإن يكن في أمتي أحد فعمرو بن الخطاب
ترجمہ
(سیدہ امی) عائشہ رضی اللّٰه عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ اگر میری امت میں کوئی محدث ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔
تخریج الحدیث
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2398
- فضائل الخلفاء الراشدین لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 15
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6894
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8065
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3693
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 516,517
- مسند اسحاق بن راھویہ رقم الحدیث 1058
- شرح مذاھب اھل السنۃ لابن شاھین رقم الحدیث 85
- مستدرک حاکم رقم الحدیث 4499
- شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ رقم الحدیث 2486,2487,2488
- مسند احمد رقم الحدیث 24285
- مسند حمیدی رقم الحدیث 255
تحقیق الحدیث
هذا حدیث صحیح۔
درج ذیل محدثین نے اس روایت کو صحیح کہا ہے:
- امام مسلم رحمہ اللّٰه نے صحیح کہا ہے [صحيح مسلم، رقم الحدیث 2398]
- امام حاکم رحمہ اللّٰه نے صحیح کہا ہے [مستدرک الحاکم، رقم الحدیث 4499]
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه نے بھی صحیح کہا ہے
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه حسن صحیح کہا ہے [سنن ترمذی، رقم الحدیث 3693]
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه نے صحیح کہا ہے [صحيح ابن حبان، رقم الحدیث 6894]
تنبیہ
سند میں محمد بن عجلان راوی ہے اس نے سماع کی صراحت کی ہے مسند حمیدی میں۔
١٩ – محدثین اور عمر بن خطاب
حدیث
أخبرنا محمد بن رافع والحسن بن محمد قالا ثنا سليمان بن داود قال أنا إبراهيم هو بن سعد عن أبيه عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قد كان فيما خلا قبلكم من الأمم ناس يحدثون فإن يكن في أمتي هذه أحد منهم فعمر بن الخطاب
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: پہلی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے۔ میری امت میں اگر کوئی محدث ہوتا تو عمر بن خطاب ہوتے۔
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3689
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1261
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8066
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 529
- مسند احمد رقم الحدیث 8468
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3873
- معرفۃ الصحابہ لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 193
- تثبیت الامامۃ وترتیب الخلافۃ لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 84
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح
حدیث کو صحیح کہنے والے اھل علم و فضل کے نام درج ذیل ہیں
- امام بخاری رحمہ اللّٰه [صحيح البخاري، رقم الحدیث 3689]
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے کہا ھذا حدیث متفق علی صحتہ [شرح السنہ للبغوی، رقم الحدیث 3873]
٢٠ – خواب میں عمر کی قمیص
حدیث
أخبرنا محمد بن يحيى بن عبد اللّٰه قال أنا يعقوب بن إبراهيم قال أنا أبي عن صالح عن ابن شهاب قال حدثني أبو أمامة بن سهل أنه سمع أبا سعيد الخدري يقول قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ينام أنا نائم رأيت الناس يعرضون علي وعليهم قمص منها ما يبلغ الثدي ومنها ما يبلغ دون ذلك وعرض علي عمر بن الخطاب وعليه قميص يجره قالوا فما أولت ذلك يا رسول اللّٰه قال الدين
ترجمہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: خواب میں مجھ پر کچھ لوگ پیش کیے گئے، انہوں نے قمیصیں پہن رکھی ہیں۔ کچھ لوگوں کی قمیصیں چھاتیوں تک ہیں اور بعض کی اس سے ذرا نیچے تک چلی گئی ہیں۔ پھر عمر بن خطاب کو دیکھا ان کی قمیص اتنی لمبی ہے کہ گھسٹتی جا رہی ہے۔ صحابہ نے عرض کیا اس کی تعبیر کیا ہے؟ فرمایا: دین۔
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 23,3691,7009
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2390
- مسند احمد رقم الحدیث 11814,23172
- فضائل الصحابہ لہ رقم الحدیث 366
- سنن دارمی رقم الحدیث 2197
- سنن ترمذی رقم الحدیث 2285,2286
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1257
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 7598,8067
- سنن نسائی للمصنف درسی، رقم الحدیث 5011
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6890
- الشریعہ للاجری رقم الحدیث 1376
- المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 8782
- مسند الشامیین للطبرانی رقم الحدیث 1705
- شرح مذاھب اھل السنۃ لابن شاھین رقم الحدیث 117
- الایمان لابن مندہ رقم الحدیث 258،259
- فضائل الخلفاء الراشدین لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 52
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3294
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح
اس حدیث کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
- امام ابن مندہ رحمہ اللّٰه
- امام بغوی رحمہ اللّٰه
تنبیہ
امام بغوی رحمہ اللّٰه نے کہا کہ اس کی صحت پر اتفاق ہے۔
امام ابن مندہ رحمہ اللّٰه نے کہا کہ اس حدیث کی صحت پر اجماع ہے۔
٢١ – خواب میں پیالہ
حدیث
أخبرنا نوح بن حبيب قال ثنا عبد الرزاق قال أنا معمر عن الزهري عن سالم عن أبيه قال قال النبي صلى اللّٰه عليه وسلم بينما أنا نائم رأيت أني آتي بقدح فشربت منه حتى إني أرى الري يخرج ثم أعطيت فضلي عمر قالوا فما أولت ذلك يا رسول اللّٰه قال العلم
ترجمہ
سیدنا حضرت عبداللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہما روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: مجھے خواب میں ایک پیالہ دیا گیا، میں نے اس سے خوب سیر ہو کر پیا اور باقی بچا ہوا عمر کو دے دیا۔ صحابہ نے پوچھا: اللّٰه کے رسول! اس کی تعبیر کیا ہے؟ فرمایا: علم۔
تخریج الحدیث
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 364
- مسند احمد رقم الحدیث 6343
- مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 6009
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 5807،8068
- فضائل الخلفاء الراشدین لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 64
تحقیق الحدیث
هذا حدیث صحیح۔
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللّٰه وغیرہ نے صحیح کہا ہے۔ مزید تحقیق آنے والی روایت کے تحت، اس لیے کہ متن تقریباً ایک جیسا ہی سمجھیں۔
٢٢ – خواب میں دودھ کا پیالہ
حدیث
أخبرني عمرو بن عثمان قال ثنا بقية قال حدثني الزبيدي قال أخبرني الزهري عن حمزة بن عبد اللّٰه بن عمر عن ابن عمر قال سمعت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال بينما أنا نائم أتيت بقدح من لبن فشربت منه حتى إني لأرى الري يجري في أظفاري ثم أعطيت فضلي عمر قالوا فما أولت ذلك قال العلم
ترجمہ
سیدنا عبد اللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سے سنا: مجھے خواب میں دودھ کا ایک پیالہ دیا گیا۔ میں نے اتنا پیا کہ سیرابی میرے ناخنوں سے ظاہر ہونے لگی۔ باقی بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا۔ صحابہ نے عرض کیا اس کی تعبیر کیا ہے؟ فرمایا: علم۔
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3681,82,7006,7007,7027,7032
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2391
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3880
- سنن ترمذی رقم الحدیث 2284,3687
- مسند احمد رقم الحدیث 5868,6142
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1255
- سنن دارمی رقم الحدیث 2200
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 365،515
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح۔
اس حدیث کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے کہا، ھذا حدیث متفق علی صحتہ
٢٣ – جنت میں سفید محل
حدیث
أخبرنا نصير بن الفرج قال ثنا شعيب بن حرب عن عبد العزيز بن عبد اللّٰه بن أبي سلمة قال ثنا محمد بن المنكدر عن جابر بن عبد اللّٰه قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أريت أني دخلت الجنة وإذا قصر أبيض بفنائه جارية فقلت لمن هذا يا جبريل قال هذا لعمر بن الخطاب فأردت أن أدخلها فانظر إليه فذكرت غيرتك فقال بأبي أنت وأمي يا رسول اللّٰه أو عليك أغار
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں جنت کا ایک سفید محل دیکھا، اس آنگن میں ایک لڑکی گھوم رہی تھی۔ پوچھا: جبریل! یہ محل کس کا ہے؟ کہا: یہ عمر بن خطاب کا ہے۔ خیال ہوا کہ میں اندر سے یہ محل دیکھ آؤں مگر آپ کی غیرت یاد آگئی۔ اے عمر، سیدنا عمر بن خطاب عرض کرنے لگے: میرے ماں باپ قربان اللّٰه کے رسول! میں آپ سے غیرت کھاؤں گا؟
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3679
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2394
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح
حدیث کو صحیح کہنے والے
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
٢٤ – جنت میں محل اور عمر کی غیرت
حدیث
أخبرنا قتيبة بن سعيد قال ثنا سفيان عن عمرو عن جابر وابن المنكدر عن جابر قال النبي ﷺ دخلت الجنة فرأيت فيها قصرا أو دارا فقلت لمن هذا قالوا لعمر بن الخطاب فأردت أن أدخله فذكرت غيرتك يا أبا حفص فلم أدخلها فبكى عمر وقال أو عليك أغار يا رسول اللّٰه
ترجمہ
ہمیں قتيبة بن سعيد نے خبر دی، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے عمرو سے، انہوں نے جابر اور ابن المنكدر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں ایک محل یا گھر دیکھا۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ فرشتوں نے جواب دیا: عمر بن الخطاب کا ہے۔ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں، لیکن اے ابوحفص! مجھے تمہاری غیرت یاد آ گئی، جس کی وجہ سے میں اندر نہ گیا۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللّٰه عنہ رو پڑے اور عرض کیا: یا رسول اللّٰه! کیا میں آپ پر بھی غیرت کھا سکتا ہوں؟
تخریج الحدیث
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2394
- مسند حمیدی رقم الحدیث 1271،1272
- مسند احمد رقم الحدیث 14321
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8125
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1268
- مسند ابی یعلی الموصلی رقم الحدیث 2014
- الکنی والاسماء للدولابی رقم الحدیث 52
- معجم ابن عساکر رقم الحدیث 555
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح۔
سفیان بن عینیہ رحمہ اللّٰه نے سماع کی صراحت کی ہے مسند حمیدی وغیرہ۔
امام مسلم رحمہ اللّٰه نے حدیث کو صحیح کہا ہے۔
٢٥ – جنت میں سونے کا محل
حدیث
أخبرنا عمرو بن علي، قال ثنا المعتمر، قال ثنا عبيد اللّٰه بن عمر، عن محمد بن المنكدر، عن جابر قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم: دخلت الجنة۔ فإذا أنا بقصر من ذهب، قلت: لمن هذا؟ قالوا لرجل من قريش۔ فما يمنعني أن أدخله يا ابن الخطاب إلا ما أعلم من غيرتك۔ قال وعليك أغار يا رسول اللّٰه؟
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا، وہاں سونے کا ایک محل دیکھا۔ تو پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ کہا: یہ ایک قریشی کا ہے۔ خیال ہوا کہ اندر سے یہ محل دیکھ آؤں مگر آپ کی غیرت یاد آگئی، اے عمر! پھر میں داخل نہیں ہوا۔ سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ نے کہا: کیا اللّٰه کے رسول! میں آپ غیرت کھاؤں گا؟
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 5226,7024
- مسند حمیدی رقم الحدیث 1272
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8072
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح۔
٢٦ – جنت میں سونے کا محل اور قریشی عمر بن خطاب
حدیث
أخبرنا علي بن حجر قال ثنا إسماعيل قال أنا حميد عن أنس أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال: دخلت الجنة فإذا أنا بقصر من ذهب قلت لمن هذا القصر قالوا لشاب من قريش فظننت أني أنا هو فقلت ومن هو قالوا عمر بن الخطاب
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں جنت میں داخل ہوا وہاں سونے کا ایک محل دیکھا تو پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ کہا یہ ایک قریشی کا ہے میں سمجھا کہ شاید میرا ہوگا، پوچھا وہ قریشی کون ہے؟ بتایا گیا کہ عمر بن خطاب۔
تخریج الحدیث
- مسند ابن الجعد رقم الحدیث 2905
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 451، 715
- مسند احمد رقم الحدیث 12046
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3688
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1266
- مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 6585
- مسند ابی یعلی رقم الحدیث 3736,3860
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8073
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 55, 6887
- لاحادیث المختارۃ رقم الحدیث 2069,2072
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح۔
حدیث کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه
- حافظ ضیاء الدین المقدسی رحمہ اللّٰه
٢٧ – عمر کی غیرت
حدیث
أخبرنا عمرو بن عثمان قال حدثني محمد بن حرب عن الزبيدي عن الزهري عن أخبرني عمرو بن عثمان قال ثنا بقيّة عن الزبيدي قال أخبرني الزهري عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال بينما نحن جلوس عند رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال بينما أنا نائم رأيتني في الجنة إذا امرأة تتوضأ إلى جانب القصر فقلت لمن هذا القصر فقالوا لعمر فذكرت غيرته فوليت مدبرا فبكى عمر وهو في المجلس قال عليك بأبي اغار يا رسول اللّٰه
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں خواب میں جنت گیا، وہاں دیکھا کہ ایک لڑکی محل کے کونے میں وضو کر رہی ہے۔ پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا گیا کہ عمر کا۔ مجھے عمر کی غیرت یاد آگئی اور میں واپس چلا آیا۔ مجلس میں سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ بھی موجود تھے، وہ رونے لگے۔ عرض کیا اللّٰه کے رسول میں آپ سے غیرت کھاؤں گا؟
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3242, 3680,7023,7025
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2395
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 107
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8074
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6888
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3291
- معجم ابن عساکر رقم الحدیث 188
- شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعۃ رقم الحدیث 2477
- الشرعیہ للاجری رقم الحدیث 939,1381,1382
تحقیق الحدیث
هذا حدیث متفق علی صحته۔
اس روایت کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
- امام بغوی رحمہ اللّٰه
٢٨ – عمر کی غیرت اور عورتوں کا پردہ
حدیث
أخبرني محمد بن عبد اللّٰه بن عبد الحكم عن شعيب قال أنا الليث عن يزيد بن الهاد عن إبراهيم بن سعد عن صالح بن كيسان عن ابن شهاب عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد عن محمد بن سعد بن أبي وقاص عن أبيه قال استأذن عمر بن الخطاب على رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم وعنده نساء من نساء الأنصار يكلمنه ويستكثرنه عالية أصواتهن فلما استأذن عمر تبادرن الحجاب فدخل عمر ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يضحك فقال أضحك اللّٰه سنك يا رسول اللّٰه فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عجبت من هؤلاء اللائي كن عندي فلما سمعن صوتك تبادرن الحجاب فقال عمر وأنت أحق أن يهبن ثم قال عمر أي عدوات أنفسهن أتهبنني ولم تهبن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قلن نعم أنت أفظ وأغلظ من رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم والذي نفسي بيده ما لقيك الشيطان قط سالكا فجّ إِلا سلك غير
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں: انصار کی بعض خواتین رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سے گفتگو کر رہی تھیں اور زیادہ نفقہ کا مطالبہ کرنے لگیں، آوازیں بلند تھیں۔ اتنے میں ابن خطاب رضی اللّٰه عنہ تشریف لائے۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی۔ خواتین نے انہیں دیکھا تو پس حجاب یعنی پردہ میں چلی گئیں۔ سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ اندر داخل ہوئے تو رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ہنس رہے تھے۔ عرض کیا: آقا، اللّٰه آپ کو ہنساتا رہے۔ فرمایا: ان خواتین پر تعجب ہے، میرے پاس موجود تھیں، آپ کی آواز سنی تو چھپ گئی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ نے عرض کیا: آپ سے تو زیادہ ڈرنا چاہئے انہیں۔ پھر عورتوں کو مخاطب ہو کر کہا: اپنی جان کی دشمنو! مجھ سے ڈرتی ہو اور رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں؟ کہنے لگیں: جی ہاں، آپ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم سے زیادہ غصے والے ہیں۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! قسم اس اللّٰه کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے۔ شیطان بھی آپ کو جس گلی میں دیکھ لے، وہ گلی چھوڑ جاتا ہے۔
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3294,3683,6085
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2396
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 301
- مسند احمد رقم الحدیث 1472,1581
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6893
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8075,9964
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3874
تحقیق الحدیث
حدیث صحیح
اس روایت کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
- امام بغوی رحمہ اللّٰه
باب ٣ – أَبُو بكر وَعمر وَعُثْمَان وَعلي رَضِي اللّٰه عَنْهُم
٢٩ – ابو بکر، عمر اور عثمان کی بشارت
حدیث
أخبرنا عبيد اللّٰه بن سعد بن إبراهيم بن سعد قال ثنا عمي قال أنا أبي عن صالح عن أبي الزناد أن أبا سلمة بن عبد الرحمن بن عوف أخبره أن عبد الرحمن بن نافع بن عبد الحارث الخزاعي أخبره أن أبا موسى الأشعري أخبره أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم كان في حائط بالمدينة على قف البئر مدليا رجلَيْهِ فدق الباب أبو بكر فقال له رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إئذن له وبشره بالجنة ففعل فدخل أبو بكر فدلى رجلَيْهِ ثم دق الباب عمر فقال له رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إئذن له وبشره بالجنة ففعل ثم دق عثمان الباب فقال له رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إئذن له وبشره بالجنة وسيلقى بلاء
ترجمہ
سیدنا حضرت ابو موسی اشعری رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں: رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم مدینہ کے ایک باغ میں کنویں کی منڈیر پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھولئے اور آنے والے کو جنت کی بشارت دے دیجئے۔ میں نے دروازہ کھولا اور ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کو جنت بشارت دی۔ ابو بکر رضی اللّٰه عنہ اندر آئے اور منڈیر پر پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللّٰه عنہ نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھول دیجئے اور انہیں جنت کی بشارت دیجئے۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنہ نے دروازے پر دستک دی، فرمایا: انہیں بھی بلا لیجئے اور جنت کی بشارت دیجئے اور بتلائیے کہ ان پر آزمائش آئے گی۔
تخریج الحدیث
- مسند احمد رقم الحدیث 19653
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8076
- الادب المفرد للبخاری رقم الحدیث 1195
تحقیق الحدیث
هذا اسناده صحیح
یہ روایت امام ذھبی رحمہ اللّٰه کے نزدیک متفق علیہ ہے۔
سیر اعلام النبلاء للذھبی 5/337
تنبیہ
یہی روایت مختلف الفاظ کے ساتھ ابو موسی اشعری رضی اللّٰه عنہ سے اور سند سے بھی آتی ہے، درج ذیل محدثین نے صحیح کہا ہے:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه، (صحیح بخاری رقم 3674,3695,7097)
- امام مسلم رحمہ اللّٰه، (صحیح مسلم رقم 2403)
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه، (سنن ترمذی رقم 3710)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه، (صحیح ابن حبان رقم 6911)
٣٠ – ابو بکر، عمر اور عثمان کی بشارت
حدیث
أخبرنا علي بن حجر قال أنا إسماعيل عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن نافع بن عبد الحارث الخزاعي قال دخل رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم حائطا من حوائط المدينة فقال لبلال أمسك علي الباب فجاء أبو بكر فاستأذن ورسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم جالس على القف مادا رجلَيْهِ فجاء بلال فقال هذا أبو بكر يستأذن فقال إئذن له وبشره بالجنة فجاء فجلس ودلى رجلَيْهِ على القف معه ثم ضرب الباب فجاء بلال فقال هذا عمر يستأذن قال إئذن له وبشره بالجنة قال فجاء فجلس معه على القف ودلى رجلَيْهِ ثم ضرب الباب فجاء بلال فقال هذا عثمان يستأذن قال إئذن له وبشره بالجنة ومعها بلاء
ترجمہ
سیدنا نافع بن عبد الحارث خزاعی رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں: رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں تھے۔ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللّٰه عنہ سے فرمایا: دروازہ بند کر دیجئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ تشریف لائے، انہوں نے اجازت طلب کی۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کنویں منڈیر پر پاؤں پسارے بیٹھے تھے۔ سیدنا بلال رضی اللّٰه عنہ نے عرض کیا: اللّٰه کے رسول! ابو بکر آئے ہیں۔ فرمایا: بلا لیجئے اور انہیں جنت کی بشارت دیجئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ تشریف لائے اور آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کے ساتھ ہی پاؤں کنویں میں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ پھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللّٰه عنہ آئے، انہیں جنت کی بشارت دی گئی اور وہ بھی آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے، پاؤں کنویں میں لٹکا دیئے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللّٰه عنہ تشریف لائے۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللّٰه عنہ سے فرمایا: عثمان کو بلا لیجئے، انہیں جنت کی بشارت سنائیے اور بتلائیے کہ آپ پر آزمائش آئے گی۔
تخریج الحدیث
- مسند احمد رقم الحدیث 15375
- سنن ابی داود رقم الحدیث 5188
- احادیث اسماعیل بن جعفر رقم الحدیث 199
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8077
تحقیق الحدیث
حدیث حسن۔
امام ابو داود رحمہ اللّٰه حدیث کے بعد فرماتے ہیں کہ اس مراد سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللّٰه عنہ والی حدیث ہے۔ راوی نے اس میں کہا: تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
سنن ابی داود رقم 5188 تحت الحدیث
هذا ما عندي واللّٰه اعلم بالصواب
٣١ – ابو بکر، عمر اور عثمان کی بشارت
حدیث
أخبرنا عبيد اللّٰه بن سعيد ومحمد بن المثنى واللفظ له عن يحيى عن عثمان بن غياث عن أبي عثمان عن أبي موسى الأشعري قال كان النبي صلى اللّٰه عليه وسلم في حائط فاستفتح رجل فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم افتح له وبشره بالجنة ففتحت له وبشرته بالجنة فإذا أبو بكر ثم استفتح آخر فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم افتح له وبشره بالجنة فإذا عمر ثم استفتح آخر فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم افتح له وبشره بالجنة على بلوى ففتحت له وبشرته بالجنة وأخبرته بالذي قال قال اللّٰه المستعان
ترجمہ
سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں: رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم ایک باغ میں تھے، دروازے پر دستک ہوئی۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھولئے اور آنے والے کو جنت کی بشارت دیجئے۔ وہ سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ تھے۔ میں نے انہیں جنت کی خوشخبری دی۔ پھر دستک ہوئی، فرمایا: بلا لیجئے اور جنت کی بشارت دیجئے۔ وہ سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ تھے۔ میں نے انہیں جنت کی بشارت دی۔ پھر دروازہ کھٹکھٹایا، فرمایا: انہیں بھی جنت کا مشہور جفا سنا دیجئے اور یہ بھی کہ ان پر آزمائش آئے گی۔ میں نے انہیں جنت کی بشارت دی اور آزمائش کی خبر دی۔ تو کہنے لگے: اللّٰه مدد کرے گا۔
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 6216، 3693
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2403
- الادب المفرد للبخاری رقم الحدیث 965
- تاریخ المدینہ لابن ابی شبۃ (1070)
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8078
- معجم ابن عساکر رقم الحدیث 933
تحقیق الحدیث
وسندہ صحیح
اس روایت کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
- امام ابن عساکر رحمہ اللّٰه
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه (3710)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه (6912)
٣٢ – احد پہاڑ پر نبی ﷺ اور صحابہ
حدیث
أخبرنا عبيد اللّٰه بن سعيد قال أنا يحيى قال ثنا ابن أبي عروبة وأخبرنا عمرو بن علي قال أنا يزيد وهو ابن زريع ويحيى قالا ثنا سعيد عن قتادة عن أنس أن نبي اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم صعد أحدا ومعه أبو بكر وعمر وعثمان فرجف بهم فضربه برجله وقال أثبت أحد فإنما عليك نبي وصديق وشهيدان اللّٰفظ لعمرو
ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم احد پہاڑ کی چوٹی پر گئے، ساتھ ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللّٰه عنہم بھی تھے۔ احد پہاڑ ہلنے لگا۔ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے اسے پاؤں سے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: احد رک جا! بے شک تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید کھڑے ہیں۔ یہ الفاظ عمرو کے بیان کردہ ہیں۔
تخریج الحدیث
- صحیح بخاری رقم الحدیث 3675,3686,3699
- مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 2097
- فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل رقم الحدیث 869
- سنن ابی داود رقم الحدیث 4651
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3697
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1437,1438,1439
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8079
- مسند ابی یعلی رقم الحدیث 2910,2964,3196
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6865,6908
- تثبیت الامامۃ وترتیب الخلافۃ لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 153
- شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 3901
تحقیق الحدیث
اسنادہ صحیح
حدیث کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
- امام بغوی رحمہ اللّٰه
٣٣ – میزان میں موازنہ
حدیث
أخبرنَا مُحَمَّد بن بشار قَالَ ثَنَا مُحَمَّد بن عبد اللّٰه قَالَ ثَنَا أَشْعَث عَن الْحسن عَن أبي بكرَة أَن النَّبِي صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسلم قَالَ ذَات يَوْم من رأى مِنْكُم رُؤْيا فَقَالَ رجل أَنا رَأَيْت ميزانا نزل من السَّمَاء فوزنت أَنْت وَأَبُو بكر فرجحت أَنْت بِأبي بكر ثمَّ وزن عمر وَأَبُو بكر فرجح أَبُو بكر ثمَّ وزن عمر وَعُثْمَان فرجح عمر ثمَّ رفع الْمِيزَان فَرَأَيْت الْكَرَاهِيَة فِي وَجه رَسُول اللّٰه صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسلم
ترجمہ
سیدنا ابو بکرہ رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں: ایک دن نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا کسی نے خواب دیکھا ہو، تو بیان کرے؟ ایک صحابی کہنے لگے میں نے خواب دیکھا کہ آسمان سے ایک میزان اتارا گیا ہے، اس میں آپ کو اور سیدنا ابو بکر رضی اللّٰه عنہ کو بٹھایا گیا، آپ کا میزان وزنی تھا، پھر صدیق و فاروق رضی اللّٰه عنہما بھٹایئں صدیق رضی اللّٰه عنہ کا میزان بھاری نکلا، پھر عمر وعثمان رضی اللّٰه عنہما کی باری آئی، عمر کا پلڑا جھک گیا، پھر میزان اٹھایا گیا نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی کے آثار تھے ۔
تخریج الحدیث
- سنن ابی داود رقم الحدیث 4634
- سنن ترمذی رقم الحدیث 2287
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8080
- معجم ابن الاعرابی رقم الحدیث 1529
- مستدرک حاکم رقم الحدیث 4437,8189
- الاعتقاد للبیہقی 1/364
- تاریخ دمشق لابن عساکر 39/114,44/135
- مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 3653
تحقیق الحدیث
وسندہ ضعیف ولکن الحدیث حسن۔
سند میں حسن بصری کی تدلیس ہے، سماع کی صراحت نہیں ہے۔
مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 3829 پر اس روایت کا حسن شاہد موجود ہے جو درج ذیل ہے:
حدثنا رزق اللّٰه بن موسى، قال نا مؤمل، قال نا حماد بن سلمة، عن سعيد بن جمهان، عن سفينة رضي اللّٰه عنه أن رجلا قال يا رسول اللّٰه رأيت كأن ميزانا دلي من السماء فوزنت بأبي بكر فرجحت بأبي بكر ثم وزن أبو بكر بعمر فرجح أبو بكر بعمر ثم وزن عمر بعثمان فرجح عمر بعثمان، ثم رفع الميزان
ترجمہ
سیدنا سفینہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:
"یا رسول اللّٰه! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک ترازو لٹکایا گیا۔ پھر آپ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللّٰه عنہ کو تولا گیا، تو آپ ﷺ کا پلڑا سیدنا ابوبکر رضی اللّٰه عنہ پر بھاری رہا۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللّٰه عنہ اور سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ کو تولا گیا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللّٰه عنہ کا پلڑا سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ پر بھاری رہا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللّٰه عنہ کو تولا گیا، تو سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ کا پلڑا سیدنا عثمان رضی اللّٰه عنہ پر بھاری رہا۔ اس کے بعد وہ ترازو اٹھا لیا گیا۔"
باب ٤ – فَضَائِل عَليّ رَضِي اللّٰه عَنهُ
٣٤ – علی رضی اللّٰه عنہ کی فضیلت
حدیث
أخبرنَا إِسْمَاعِيل بن مَسْعُود عَن خَالِد قَالَ أَنا شُعْبَة عَن عَمْرو ابْن مرّة قَالَ سَمِعت أَبَا حَمْزَة مولى الْأَنْصَار قَالَ سَمِعت زيد بن أَرقم يَقُول أول من صلى مَعَ رَسُول اللّٰه صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسلم وَقَالَ فِي مَوضِع آخر أول من أسلم عَليّ
ترجمہ
زید بن ارقم رضی اللّٰه عنہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ نے سب سے پہلے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی۔ دوسرے مقام پر فرمایا: علی رضی اللّٰه عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔
تخریج الحدیث
- مسند احمد رقم الحدیث 19281
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3735
- مستدرک حاکم رقم الحدیث 4663
- مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 36594
- الآحاد والمثانی لابن ابی عاصم رقم الحدیث 180
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8334,8335
تحقیق الحدیث
اسنادہ حسن
حدیث کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه
- امام حاکم رحمہ اللّٰه
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه
٣٥ – موسی اور ہارون والا تعلق
حدیث
أخبرنَا بشر بن هِلَال أَنا جَعْفَر يَعْنِي ابْن سُلَيْمَان قَالَ أَنا حَرْب بن شَدَّاد عَن قَتَادَة عَن سعيد بن الْمسيب عَن سعد بن أبي وَقاص قَالَ لما غزا رَسُول اللّٰه صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسلم غَزْوَة تَبُوك خلف عليا بِالْمَدِينَةِ فَقَالُوا فِيهِ مله وَكره صحبته فتبع عَليّ النَّبِي صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسلم حَتَّى لحقه بِالطَّرِيقِ فَقَالَ يَا رَسُول اللّٰه خلفتني بِالْمَدِينَةِ مَعَ الذَّرَارِي وَالنِّسَاء حَتَّى قَالُوا مله وَكره صحبته فَقَالَ لَهُ النَّبِي صلى اللّٰه عَلَيْهِ وَسلم يَا عَليّ إِنَّمَا خلفتك على أَهلِي أما ترْضى أَن تكون مني بِمَنْزِلَة هَارُون من مُوسَى غير أَنه لَا نَبِي بعدي
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ تبوک پہ جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ کو مدینہ منورہ میں جانشین بنایا۔ لوگ کہنے لگے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کی طبیعت سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ سے بھر گئی ہے، اب آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم انہیں ساتھ رکھنے سے گریزاں ہیں۔ سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم کی طرف نکلے، رستے میں ملاقات ہو گئی۔ عرض کیا: آقا مجھے آپ بچوں اور عورتوں کے ساتھ چھوڑ آئے؟ لوگ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللّٰه علیہ وسلم کی طبیعت علی سے بھر گئی ہے اور آپ مجھے ساتھ لے جانا نہیں چاہتے۔ تو رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آپ کو اہل بیت کا جانشین بنایا ہے۔ کیا آپ چاہتے نہیں کہ آپ کا اور میرا تعلق وہ ہو جو موسی وہارون علیہما السلام کا تھا؟
تخریج الحدیث
- مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 1076
- مسند ابی یعلی رقم الحدیث 738
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث8729
- تثبیت الامامۃ وترتیب الخلافۃ لابی نعیم الاصبھانی رقم الحدیث 6,7
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2404
تحقیق الحدیث
ھذا حدیث صحیح۔
اس روایت کو صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں:
- امام مسلم رحمہ اللّٰه
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
٣٦ – علی اور ہارون کی مثال
حدیث
أخبرنَا الْقَاسِم بن زَكَرِيَّا بن دِينَار قَالَ أَنا أَبُو نعيم قَالَ ثَنَا عبد السَّلَام عَن يحيى بن سعيد عَن سعيد بن الْمسيب عَن سعد بن أبي وَقاص أَن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ لعَلي أَنْت مني بِمَنْزِلَة هَارُون من مُوسَى
ترجمہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: میرا اور آپ کا تعلق وہ ہے، جو سیدنا موسی وہارون علیہما السلام کا تھا
تخریج الحدیث
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2404
- سنن ترمذی رقم الحدیث 3731
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 1333
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8083
تحقیق الحدیث
ھذا اسنادہ صحیح
اس روایت کو حسن اور صحیح کہنے والے محدثین کے نام درج ذیل ہیں
- امام مسلم رحمہ الله
- امام ترمذی رحمہ الله
٣٧ – علی اور ہارون کی مثال
حدیث
أخبرنَا عَليّ بن مُسلم قَالَ ثَنَا يُوسُف بن يَعْقُوب الْمَاجشون أَبُو سَلمَة قَالَ أَخْبرنِي مُحَمَّد بن الْمُنْكَدر عَن سعيد بن الْمسيب قَالَ سَأَلت سعد بن أبي وَقاص فَهَل سَمِعت رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم لعَلي أَنْت مني بِمَنْزِلَة هَارُون من مُوسَى إِلَّا أَنه لَيْسَ معي أَو بعدِي نَبِي قَالَ نعم سمعته قلت أَنْت سمعته فَأدْخل أصبعيه فِي أُذُنَيْهِ قَالَ نعم وَإِلَّا فاستکتا
ترجمہ
سیدنا سعید بن مسیب رحمہ الله نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ سے سوال کیا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے؟ علی آپ کا اور میرا تعلق موسی وہارون والا ہے، البتہ میرے بعد یا میرے ساتھ کوئی نبی نہیں ہے؟ فرمایا جی ہاں سنا ہے عرض: آپ نے خود سنا؟ فرمایا جی میں نے ہی سنا اگر نہیں تو یہ کان بہرے ہو جائیں ـ
تخریج الحدیث
- صحیح مسلم رقم الحدیث 2404
- السنن الکبری للمصنف رقم الحدیث 8084
- الکنی والاسماء للدولابی رقم الحدیث 1066
- حدیث السراج لشیخ الثقفی رقم الحدیث 1038
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 6926
تحقیق الحدیث
ھذا حدیث صحیح
اس روایت کو صحیح کہنے والے آئمہ کا نام درج ذیل ہے
- امام مسلم رحمہ الله
- امام ابن حبان رحمہ