فہرست
سورة البقرة
آخری دو آیات کی فضیلت اور شیطان سے حفاظت؟
حدیث
حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا عبد الرحمن بن مهدي قال حدثنا حماد بن سلمة عن أشعث بن عبد الرحمن الجرمي عن أبي قلابة عن أبي الأشعث الجرمي عن النعمان بن بشير عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال:
إن اللّٰه كتب كتابا قبل أن يخلق السموات والأرض بألفي عام أنزل منه آيتين ختم بهما سورة البقرة ولا يقرآن في دار ثلاث ليال فيقربها شيطان.
ترجمہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللّٰه عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
اللّٰه تعالیٰ نے زمین وآسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی، اس کتاب کی دو آیتیں نازل کیں اور انہیں دونوں آیتوں پر سورہ بقرہ کو مکمل کیا۔ جس گھر میں یہ دونوں آیتیں لگا تار تین راتیں پڑھی جائیں گی، ممکن نہیں ہے کہ شیطان اس گھر کے قریب آسکے۔
تخریج
- سنن ترمذی رقم الحدیث 2882
- سنن دارمی رقم الحدیث 3430
- مسند احمد رقم الحدیث 18414
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 782
اس کے علاوہ کئی کتابوں میں آتی ہے یہ روایت۔
تحقیق
وسندہ حسن صحیح۔
درج ذیل آئمہ کرام رحمہم اللّٰہ کے نزدیک یہ روایت صحیح وثابت ہے:
- امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللّٰه
- امام ابو حاتم رحمہ اللّٰه کا بھی یہی موقف نظر آتا ہے
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
- امام حاکم رحمہ اللّٰه
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے حسن غریب کہا ہے
- حافظ بوصیری رحمہ اللّٰه
سورة الدخان
جمعہ کی رات تلاوت اور صبح مغفرت؟
حدیث
أخبرنا أبو يعلى حدثنا يحيى بن أيوب العابد ثنا مصعب بن المقدام حدثني أبو المقدام عن الحسن عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال
من قرأ سورة الدخان في ليلة جمعة أصبح مغفورا له.
ترجمہ
جو شخص جمعہ کی رات سورۃ دخان پڑھ لے صبح کو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے۔
تخریج
- مسند ابی یعلیٰ رقم الحدیث 6232
- شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 2247
- عمل الیوم واللیلہ لابن السنی رقم الحدیث 679
- فضائل القرآن للمستغفری رقم الحدیث 892
تحقیق
وسندہ ضعیف جدا۔
سند میں راوی ھشام بن زیاد ابو المقدام متروک الحدیث ہے۔
اور دوسری علت حسن بصری رحمہ الله کا سیدنا ابو ھریرہ رضی الله عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
سورة طه و سورة یس
فرشتوں کی خوشخبری ان کے حافظ اور قاری کے لیئے؟
حدیث
حدثنا إبراهيم بن المنذر حدثنا إبراهيم بن المهاجر بن المسمار عن عمر بن حفص بن ذكوان عن مولى الحرقة عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
إن الله تبارك وتعالى قرأ طه ويس قبل أن يخلق السماوات والأرض بألف عام فلما سمعت الملائكة القرآن قالت طوبى لأمة ينزل هذا عليها وطوبى لأجواف تحمل هذا وطوبى لألسنة تتكلم بهذا
ترجمہ
سیدنا ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الله تعالیٰ نے زمین وآسمان کی تخلیق سے ہزار برس پہلے سورہ طہ اور سورہ یسین کی تلاوت فرمائی۔ جب فرشتوں نے قرآن سنا تو انہوں نے کہا: اس امت کے لیے خوشخبری ہو جس پر یہ اتارا جائے گا، ان مبارک دلوں کے لیے خوشخبری ہو جو اسے یاد کریں گے اور اسے پڑھنے والی زبان کے لیے خوشخبری ہو۔
تخریج
- سنن دارمی رقم الحدیث 3457
- السنہ لابن ابی عاصم رقم الحدیث 607
- التوحید لابن خزیمہ 1/402
- المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 4876
- الابانۃ الکبری لابن بطۃ رقم الحدیث 39
- فوائد تمام الرازی رقم الحدیث 303، 304، 305
- شرح اصول اعتقاد اھل السنۃ والجماعہ رقم الحدیث 368, 369
- الاسماء و الصفات للبیہقی رقم الحدیث 491
- شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 2225
- فضائل القرآن للمستغفری رقم الحدیث 830، 831
تحقیق
وسندہ ضعیف جدا، وحدیث موضوع۔
اس روایت پر درج ذیل آئمہ محدثین نے جرح کی ہے:
- امام ابن عدی رحمہ الله کے نزدیک یہ روایت منکر ہے [الکامل لابن عدی 1/352]
- امام عقیلی رحمہ الله نے اس روایت کو الضعفاء الکبیر میں درج کیا ہے [الضعفاء الکبیر للعقیلی، ترجمہ ابراھیم بن المھاجر بن مسمار]
- محمد بن طاہر المقدسی کے نزدیک بھی یہ روایت ثابت نہیں ہے [ذخیرۃ الحفاظ رقم 962، دوسرا نسخہ 5/271]
- علامہ ابن جوزی رحمہ الله نے اس روایت کو موضوعات میں شمار کیا ہے [الموضوعات لابن الجوزی 1/110]
- علامہ سیوطی رحمہ الله کے نزدیک بھی یہ روایت موضوع ہے [الالیء المصنوعۃ فی الاحادیث الموضوعہ 1/17]
- حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے کہا: ھذا حدیث غریب، وفیہ نکارۃ [تفسیر ابن کثیر 5/240]
- امام ابن حبان رحمہ الله نے کہا: وھذا متن الموضوع [المجروحین لابن حبان 1/108]
- علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے [فتح القدیر للشوکانی 3/419]
- امام ذھبی رحمہ الله نے کہا ، ھذا حدیث منکر فابن مھاجر وشیخہ ضعیفان [سیر اعلام النبلاء للذھبی 10/691]۔ امام ذھبی رحمہ الله نے اس روایت کو میزان الاعتدال میں بھی درج کیا ہے اور ابن حبان کی جرح بھی نقل کی ہے [میزان الاعتدال للذھبی]
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله نے امام ابن حبان اور علامہ ابن جوزی رحمہما الله پر رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ روایت موضوع نہیں ہے، لیکن یہ بات حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله کی درست نہیں ہے، خود لسان المیزان ترجمہ ابراھیم بن مھاجر بن مسمار میں ابن حبان رحمہ الله کی جرح بھی قبول کی ہے اسی روایت پر [لسان المیزان لابن حجر عسقلانی 1/369]
سند میں درج ذیل راویوں پر جرح ہے:
- ابراھیم بن مھاجر بن مسمار ضعیف ہے
- اس کا استاد عمر بن حفص بن ذکوان متروک الحدیث راوی ہے
لہذا یہ روایت موضوع و منکر ہے۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
قدوسی ریسرچ سینٹر