عید الفطر اور عید الاضحی
عید الفطر اور عید الاضحی کی راتوں کو عبادت کے لیے خاص کرنا بدعت ہے، اس بارے پیش کی جانے والی روایات کا علمی وتحقیقی جائزہ:
حدیث
حدثنا أبو أحمد المرار بن حموية قال حدثنا محمد بن المصفى قال حدثنا بقية بن الوليد عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:
من قام ليلتي العيدين محتسبا لله لم يمت قلبه يوم تموت القلوب۔
ترجمہ
جس نے ثواب کی خاطر عیدین کی راتوں میں قیام کیا اس کا دل اس دن زندہ رہے گا جس دن لوگوں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔
تخریج الحدیث
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1782
تحقیق الحدیث
وسندہ ضعیف جدا۔
سند میں بقیہ بن ولید مدلس راوی ہے، تدلیس تسویہ کرتا ہے۔ سماع مسلسل نہیں ہے۔
اس روایت کی ایک سند الترغیب والترھیب لابی القاسم الاصبھانی رقم الحدیث 373 پر موجود ہے جو درج ذیل ہے:
أخبرنا محمد بن أحمد بن هارون أنا أبو بكر بن مردويه ثنا أحمد بن محمد عثمان الصيدلاني الكوفي ثنا المنذر بن محمد بن المنذر ثنا أحمد بن موسى الأسدي ثنا عمر بن هارون البلخي عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبي أمامة الباهلي رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
من أحيا ليلتي العيد إيمانا واحتسابا لم يمت قلبه حتى تموت القلوب۔
سند متن لکھ دیا ہے۔
وسندہ موضوع۔
اس سند میں درج ذیل علتیں ہیں:
نمبر ایک
عمر بن ھارون البلخی کذاب راوی ہے، درج محدثین جرح کی ہے:
- امام نسائی رحمہ الله نے، متروک الحدیث کہا ہے (الضعفاء والمتروکون للنسائی 1/84)
- امام ابن حبان رحمہ اللہ نے سخت جرح کی ہے کہ ثقہ راویوں سے معضل روایات بیان کرتا ہے (المجروحین لابن حبان 2/90)
- امام ذھبی رحمہ الله نے کہا ، ترکوہ وکذبہ بعضھم (المغنی فی الضعفاء 2/475)
- اور امام ذھبی رحمہ الله نے ہی عمر بن ھارون البلخی کا مفصل ذکر سیر اعلام النبلا میں کیا ہے صفحہ 267 سے 276 تک کیا ہے اور محدثین کی جرح بھی نقل کی ہے (سیر اعلام النبلاء للذھبی 9/267)
- علامہ ابن جوزی رحمہ الله نے ضعیف اور متروک راویوں میں شامل کیا ہے (الضعفاء والمتروکون لابن الجوزی 2/218)
- امام عجلی رحمہ الله نے ضعیف کہا ہے (الثقات للعجلی 1/361)
- امام یحیی بن معین رحمہ الله نے کذاب کہا ہے (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 6/141)
- ان کے علاوہ کئی آئمہ محدثین نے بھی جرح کی ہے مثلا ، امام دارقطنی رحمہ الله ، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله ، امام ابن عدی رحمہ الله ، امام احمد بن حنبل رحمہ الله ، حافظ ابن القطان رحمہ الله ، علامہ ھیثمی رحمہ الله نے
نمبر دو
منذر بن محمد بن منذر کا ثقہ ہونا ثابت نہیں ہے۔
نمبر تین
احمد بن موسیٰ اسدی مجھول راوی ہے۔
لہذا یہ روایت موضوع ہے۔
اس روایت کی تیسری سند فضائل الاوقات للبیہقی رقم الحدیث 150 پر موجود ہے۔
أخبرنا أبو سعيد محمد بن موسى حدثنا أبو العباس الأصم أنبأنا الربيع أنبأنا الشافعي رحمه الله حدثنا إبراهيم بن محمد قال قال ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن أبي الدرداء قال...
- فضائل الاوقات للبیہقی رقم الحدیث 150
- شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 3438
وسندہ ضعیف جدا۔
سند میں 2 علتیں ہیں:
نمبر ایک
ابراھیم بن محمد بن ابی یحیی متروک الحدیث راوی ہے۔
جمھور محدثین نے جرح کی ہے:
- امام ذھبی رحمہ الله نے کہا ، ھو متروک عند الجمھور (دیوان الضعفاء صفحہ 13)
نمبر دو
خالد بن معدان کا حضرت ابو درداء رضی الله عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
اس بارے چوتھی روایت سیدنا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے مروی المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 159:
حدثنا أحمد بن يحيى بن خالد بن حيان قال نا حامد بن يحيى البلخي قال نا جرير بن عبد الحميد عن رجل وهو عمر بن هارون البلخي عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن عبادة بن الصامت...
- المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 159
نمبر ایک
اس سند میں عمر بن ھارون البلخی کذاب راوی موجود ہے جس کا ذکر سند نمبر دو کی تحقیق میں گزر چکا ہے۔
نمبر دو
خالد بن معدان کا سیدنا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
خلاصۃ التحقیق
عید الفطر اور عیدالاضحی کی راتوں میں عبادت کرنے کے حوالے سے پیش کی گئی کوئی روایت ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ روایت اپنی جمیع اسناد کے ساتھ موضوع ہے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب۔
قدوسی ریسرچ سینٹر