فہرست
قربانی کی استطاعت نہ ہو تو کیا کریں؟
حدیث
عن عبداللّٰه بن عمرو بن العاص ،أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم: قال:
أمرت بيوم الأضحى عيدا جعله اللّٰه عز وجل لهذه الأمة۔
قال الرجل: أرأيت إن لم أجد إلا أضحية أنثى، أفأضحي بها؟
قال:
لا، ولكن تأخذ من شعرك، وأظفارك، وتقص شاربك، وتحلق عانتك، فتلك تمام أضحيتك عند اللّٰه عز وجل
ترجمہ
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللّٰه عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے اضحی کے دن کے متعلق حکم دیا گیا ہے کہ اسے بطور عید مناؤں جسے کہ اللّٰہ عزوجل نے اس امت کے لیے خاص کیا ہے۔
ایک آدمی نے کہا: فرمائیے کہ اگر مجھے دودھ کے جانور کے سوا کوئی جانور نہ ملے تو کیا میں اس کی قربانی کردوں؟
آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نہیں، بلکہ اپنے بال کاٹ لو، ناخن اور مونچھیں تراش لو اور زیر ناف کی صفائی کرلو۔ اللّٰہ کے ہاں تمہاری یہی مکمل قربانی ہوگی۔
تخریج
- سنن ابی داود رقم الحدیث: 2789
- مسند احمد رقم الحدیث: 6575
- السنن الکبری للنسائی: رقم الحدیث: 4439
- سنن نسائی رقم الحدیث: 4365 دوسرا نسخہ 4370
- شرح مشکل الآثار رقم الحدیث: 5530
- شرح معانی الآثار رقم الحدیث: 6161
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث: 5914
- المعجم الکبیر للطبرانی: رقم الحدیث: 157
- سنن الدارقطنی رقم الحدیث: 4749
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث: 19028
- الموارد الظمأن رقم الحدیث: 1043
- مسند البزار رقم الحدیث: 2459
تحقیق
وسندہ حسن۔
سند میں راوی عیسی بن هلال الصدفي صدوق، حسن الحدیث ہے۔
آئمہ کی توثیق
-
امام ابن حبان رحمہ اللّٰہ نے ثقات میں شمار کیا ہے (کتاب الثقات 5/213) اور صحیح میں بھی روایات لی ہیں۔
-
امام یعقوب بن سفیان الفسوی نے ثقہ تابعین میں شمار کیا ہے (المعرفۃ والتاریخ 2/515)
-
امام ترمذی رحمہ اللّٰہ نے اس کی بیان کردہ حدیث کی سند کو:
ھذا حدیث اسنادہ حسن
معلوم ہوا کہ امام ترمذی رحمہ اللّٰہ کے نزدیک حسن الحدیث ہے۔
-
امام ابن مندہ رحمہ اللّٰہ:
- ھذا اسناد متصل مشھور عند المصریین (کتاب التوحید 1/186)
- مصری مشھور (کتاب التوحید 1/186، صفحہ 178)
-
امام بغوی رحمہ اللّٰہ:
ھذا حدیث حسن (شرح السنہ رقم الحدیث 4411)
-
امام ھیثمی رحمہ اللّٰہ:
ورجال احمد ثقات (مجمع الزوائد رقم الحدیث: 1611)
-
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ نے عیسی بن ھلال الصدفی کو صدوق کہا ہے (تقریب التھذیب 2/109)
اس تحقیق سے ثابت ہوتا ہے عیسی بن ھلال الصدفی صدوق حسن الحدیث راوی ہے، الحمد للّٰہ۔ لہذا یہ روایت حسن لذاتہ درجے کی ہے۔ امام حاکم رحمہ اللّٰہ اور امام ذہبی رحمہ اللّٰہ کے نزدیک بھی یہ صحیح ہے۔
خلاصہ
اتنی توثیق کے ہوتے ہوئے اگر کوئی عیسی بن ھلال الصدفی کو مجھول کہے تو درست نہیں ہوگا۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
قربانی جہنم سے حجاب؟
حدیث
حدثنا أحمد بن محمد النخعي القاضي الكوفي ثنا عمار بن أبي مالك الجنبي ثنا أبو داود النخعي عن عبد اللّٰه بن حسن بن حسن عن أبيه عن جده قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم:
من ضحى طيبة بها نفسه محتسبا لأضحيته كانت له حجابا من النار
ترجمہ
حسن بن علی رضی اللّٰه عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے اپنی قربانی پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے خوش دلی کے ساتھ قربانی کی، وہ جانور اس کے لیے جہنم سے حجاب ہو گا۔
تخریج
- المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث: 2736
تحقیق
سند میں سلیمان بن عمرو النخعی کذاب راوی ہے۔
سلیمان بن عمرو النخعی کی جرح:
درج ذیل آئمہ کرام رحمہم اللّٰہ نے اس پر جرح کی ہے:
-
امام ابو زرعۃ الرازی رحمہ اللّٰه:
- "کذاب" (الضعفاء لابی زرعہ الرازی 2/524)
- "سلیمان بن عمرو النخعی مصیبتوں میں سے ایک مصیبت ہے" (الضعفاء لابی زرعہ الرازی 2/622)
-
جوزجانی رحمہ اللّٰه:
"یضع الحدیث" (احوال الرجال 1/330)
-
امام نسائی رحمہ اللّٰه:
"متروک الحدیث" (الضعفاء والمتروکین للنسائی 1/48)
-
امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه:
"کذاب یضع الحدیث" (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 4/132)
-
امام ابو حاتم رحمہ اللّٰه:
"ذاھب الحدیث، متروک الحدیث، کان کذابا" (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 4/132)
-
امام ذھبی رحمہ اللّٰه:
"کذاب" (دیوان الضعفاء 132)
-
امام علی بن مدینی رحمہ اللّٰه:
"کان من الدجالین" (لسان المیزان لابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه 4/163)
-
امام بخاری رحمہ اللّٰه:
امام قتیبہ بن سعید اور امام اسحاق بن رھوایہ رحمھما اللّٰه نے کذاب کہا ہے۔
-
امام ابن عدی رحمہ اللّٰه:
"اجتمعوا علی انه یضع الحدیث" (الکامل فی الضعفاء الرجال 4/428)
-
امام حاکم رحمہ اللّٰه:
"کذاب یضع الحدیث" (سوالات السجزی للحاکم 1/99)
-
علامہ ھیثمی رحمہ اللّٰه:
"رواہ الطبرانی فی الکبیر وفیه سلیمان بن عمرو النخعی وھو کذاب" (مجمع الزوائد 4/17)
دیگر آئمہ کی جرح:
علامہ ھیثمی رحمہ اللّٰه، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه، اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللّٰه نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے (البدر المنیر لابن الملقن، التلخیص الحبیر لابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه، وغیرہ)
خلاصہ
یہ روایت موضوع ہے اور اس کی سند میں موجود راوی سلیمان بن عمرو النخعی پر آئمہ کرام نے شدید جرح کی ہے۔ لہذا اس روایت کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب
بکرے، چھترے کی قربانی گھر کے تمام افراد یا ایک فرد کے لیئے کفایت اور احناف کا موقف؟
احناف کا موقف
احناف کا موقف ہے کہ بکرے، چھترے کی قربانی گھر کے ایک فرد کی طرف سے کفایت کرتی ہے نہ کہ گھر کے تمام افراد کی طرف سے۔
احناف کا موقف درج ذیل صحیح حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
حدیث
حدثنا يحيى بن موسى قال حدثنا أبو بكر الحنفي قال حدثنا الضحاك بن عثمان قال حدثني عمارة بن عبد اللّٰه قال سمعت عطاء بن يسار يقول سألت أبا أيوب الأنصاري كيف كانت الضحايا على عهد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم فقال
كان الرجل يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته فيأكلون ويطعمون حتى تباهى الناس فصارت كما ترى
ترجمہ
عطاء بن یسار رحمہ اللّٰه کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللّٰه عنہ سے پوچھا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کے زمانے میں قربانیاں کیسے ہوتی تھی انہوں نے کہا
ایک آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا وہ لوگ خود کھاتے تھے اور دوسروں کو کھلاتے تھے یہاں تک کہ لوگ کثرت قربانی پر فخر کرنے لگے اور اب یہ صورت حال ہو گئی جو دیکھ رہے ہو۔
تخریج
- سنن ترمذی رقم الحدیث 1505
- المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث4085
- معرفۃ السنن والآثار للبیہقی رقم الحدیث 18927، 18928
تحقیق
اسنادہ حسن۔
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے کہا ھذا حدیث حسن صحیح۔
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے صحیح کہا ہے (فتح الباری 10/69)
- حافظ عراقی رحمہ اللّٰه کے نزدیک بھی یہ روایت حسن صحیح ہے (تخریج احادیث احیاء 1/503)
- علامہ شوکانی رحمہ اللّٰه کا رجحان اس روایت کی تصحیح کی طرف ہے۔
مزید آثار
- اس کے علاوہ سیدنا ابوھریرہ رضی اللّٰه عنہ سے مروی روایت السنن الکبری للبیہقی میں موجود ہے۔ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللّٰه عنہ کا بھی یہی موقف ہے کہ ایک بکری سب گھر والوں کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے۔
- امام بغوی رحمہ اللّٰه نے لکھا ہے کہ سیدنا ابو ھریرہ رضی اللّٰه عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللّٰه عنہ دونوں ایسا ہی کرتے تھے (شرح السنۃ للبغوی 4/357)۔
قربانی کے ہر بال پر نیکی؟
حدیث
عن زید بن أرقم قال: قال أصحاب رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم: یارسول اللہ، ماھذہ الأضاحی؟
قال:
سنة أبیکم إبراھیم
قالوا: فما لنا فیھا، یارسول اللہ؟
قال:
بکل شعرةٍ حسنة
قالوا: فالصوف، یارسول اللہ؟
قال:
بکل شعرةٍ من الصوف حسنة
ترجمہ
حضرت زید بن ارقم رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللّٰه عنھم نے کہا: اے اللّٰه کے رسول، یہ قربانیاں کیا ہیں؟
رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں۔
انہوں نے کہا: اس میں ہمارے لیے کیا ہے؟
آپ نے فرمایا:
ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔
#انہوں نے کہا: اے اللّٰه کے رسول، اور اون؟
فرمایا:
اون کے بھی ہر بال کے بدلے نیکی ہے۔
تخریج
- سنن ابن ماجہ: رقم: 3127
- مسند احمد: رقم: 19283
- المنتخب مسند عبد بن حمید: رقم: 259
- طبرانی کبیر: رقم: 5075
- مستدرک حاکم: رقم: 3467
- السنن الکبری للبیہقی: رقم: 19016، 19017، 19018
- شعب الإیمان للبیہقی: رقم: 6956
- الضعفاء الکبیر للعقیلي: 3/419، 4/307
- معجم الصحابة لابن قانع: 1/228
- تفسیر ابن کثیر: 5/424 دوسرا نسخہ: 5/373
- الکامل لابن عدی: 7/63
- المجروحین لابن حبان: 3/55
- میزان الاعتدال: 4/272
- معرفة التذکرة لابن القیسرانی: 1/172
تحقیق
روایت کی سند میں دو بڑی خرابیاں ہیں:
- عائذ اللّٰه المجاشعي ضعیف ہے
- نفیع بن الحارث أبوداود الأعمی متروك راوی ہے
عائذ اللّٰه المجاشعي پر محدثین کی جرح:
- حافظ ابن حجر: "ضعیف"
- امام ابوحاتم: "منکرالحدیث"
- امام ابن حبان: "بصري منکرالحدیث"
- امام بخاری: "لا یصح حدیثہ (اس کی حدیث صحیح نہیں ہے)"
حوالہ جات:
- تقریب التھذیب: 3116
- الضعفاء الصغیر: 289
- الجرح والتعدیل: 7/40
- المجروحین: 2/192
- میزان الاعتدال: 2/364
نفیع بن الحارث پر محدثین کی جرح:
- حافظ ابن حجر: "متروک" (7181)
- امام نسائی: "متروک الحدیث" (592)
- امام ابوحاتم: "منکرالحدیث، ضعیف الحدیث" (الجرح والتعدیل 8/489)
- امام ھیثمی: "متروک، ضعیف جدا" (مجمع الزوائد 7/205)
- حافظ ابن کثیر: "کذاب" (تفسیر 6/411)
- امام ابن معین: "کذاب" (تقریب)، اور ایک مرتبہ کہا: "لیس بثقة ولامامون" (معرفة التذکرة)
- امام حاکم: حدیث کو صحیح کہا تو امام ذھبی نے تلخیص میں رد کردیا، پھر امام حاکم نے نفیع پر جرح کی: "روی عن بریدة وأنس أحادیث موضوعة" (المدخل الی الصحیح 1/218)
دیگر آئمہ کی جرح:
- امام بخاری
- امام ابن جوزی
- امام عمرو بن علی الفلاس
- امام جوزجانی
- امام ترمذی
- ابن القیسرنی
- ابن عبدالبر
- امام دارقطنی
- امام ابوزرعة
- امام عقیلی
- امام ابو نعیم
- بوصیری
- امام ذھبی
- امام ابن عدی
- امام الساجی
- امام ابن حبان
ان عظیم المرتبت أئمہ نے شدید جرح کر رکھی ہے: "منکرالحدیث، متروک الحدیث، کذاب" وغیرہ الفاظ سے۔
خلاصہ
اس تحقیق سے پتا چلا کہ روایت بہت زیادہ ضعیف ہے۔ بغیر جرح کے بیان کرنا جائز نہیں ہے۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
میت کی طرف سے قربانی؟
حدیث
حدثنا محمد بن عبيد المحاربي الكوفي، حدثنا شريك، عن ابي الحسناء، عن الحكم، عن حنش، عن علي
انه كان يضحي بكبشين، احدهما عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، والآخر عن نفسه
فقيل له، فقال:
امرني به، يعني النبي صلى اللّٰه عليه وسلم، فلا ادعه ابدا
قال ابو عيسى: هذا حديث غريب لا نعرفه إلا من حديث شريك، وقد رخص بعض اهل العلم ان يضحى عن الميت، ولم ير بعضهم ان يضحى عنه، وقال عبد اللّٰه بن المبارك: " احب إلي ان يتصدق عنه، ولا يضحى عنه، وإن ضحى، فلا ياكل منها شيئا، ويتصدق بها كلها "، قال محمد، قال علي بن المديني، وقد رواه غير شريك، قلت له: ابو الحسناء ما اسمه، فلم يعرفه، قال مسلم اسمه: الحسن.
ترجمہ
سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے کہ
وہ 2 مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے ایک نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم کی طرف سے اور دوسرا اپنی طرف سے۔
تو ان سے اس بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے بتایا
مجھے اس کا حکم نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے دیا ہے لھذا میں اس کو کبھی نہیں چھوڑوں گا۔
تخریج
- سنن ترمذی رقم الحدیث 1495
- سنن ابی داود رقم الحدیث 2790 #- مسند احمد رقم الحدیث 1279، 843، 1286
- مستدرک حاکم رقم الحدیث 7556
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 19188
تحقیق
اسنادہ ضعیف
سند میں درج ذیل علتیں ہیں:
- حنش بن المعتمر ضعیف راوی ہے (امام عقیلی، امام نسائی، امام ابو حاتم، حافظ ابن حبان وغیرہ نے جرح کی ہے)
- الحکم راوی مدلس ہے
- ابو الحسناء مجھول راوی ہے
- شریک بن عبداللہ النخعی قاضی کوفی مدلس بھی ہے اور مختلف فیہ ہے
علی رضی اللّٰه عنہ کے متعلق السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 19187 پر ایک اس طرح کی روایت ہے کہ علی رضی اللّٰه عنہ 2مینڈھے ذبح کرتے، وہ بھی ضعیف ہے (اس سند میں مجھول راوی ہیں)
خلاصہ
یہ روایت بہت زیادہ ضعیف ہے لھذا میت کی طرف سے قربانی ثابت نہیں ہے، ہاں میت کی طرف سے صدقہ کیا جاسکتا ہے۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب
قربانی کا جانور پل صراط پر سواری؟
متن روایت
عظموا ضحاياكم فإنها على الصراط مطاياكم
ترجمہ
اپنی قربانی کے جانوروں کی عزت کرو یہ پل صراط پر تمہاری سواریہ ہوں گی
تخریج
- تاریخ قزوین 3/219
تحقیق
-
محدث البانی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کی تخریج سلسلہ الاحادیث الضعیفہ رقم 74، 2687، 1255 پر کی ہے اور کہا:
لا اصل لہ بھذا الفظ
#- حافظ ابن الصلاح رحمہ اللّٰه نے کہا:
ھذا حدیث غیر معروف ولا ثابت
-
عجلونی رحمہ اللّٰه نے اس روایت پر جرح کی ہے (کشف الخفاء رقم الحدیث 337، 1794)
-
ابن العربی رحمہ اللّٰه نے کہا:
لیس فی الاضحیۃ حدیث صحیح
-
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے اس روایت پر جرح کی ہے (التلخیص الحبیر 4/138)
سند میں راوی یحیی بن عبید اللّٰه پر جرح ہے:
-
امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه:
یہ ثقہ نہیں ہے
-
امام ابو حاتم رحمہ اللّٰه:
ضعیف الحدیث، منکر الحدیث جدا
-
امام مسلم رحمہ اللہ:
متروک الحدیث
-
امام نسائی رحمہ اللّٰه:
متروک الحدیث
خلاصہ
لہذا یہ روایت موضوع کے درجے کی یا کم از کم ضعیف جدا ہے۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب
قربانی کے جانور میں عیب ظاہر ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث
حدثنا محمد بن يحيى ومحمد بن عبد الملك أبو بكر قالا حدثنا عبد الرزاق عن الثوری عن جابر بن يزيد عن محمد بن قرظة الأنصاري عن أبي سعيد الخدري قال ابتعنا كبشا نضحي به فأصاب الذئب من أليته أؤ أذنه فسألنا النبي صلى اللّٰه عليه وسلم فأمرنا أن نضحي به
ترجمہ
حضرت ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا، بھیڑیا اس کے چوتڑوں یا کان سے کچھ حصہ کاٹ کر لے گیا، ہم نے نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ اس کی قربانی کردیں۔
تخریج
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 3146
- مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 2351
- شرح معانی الآثار رقم الحدیث 6192
- معرفۃ السنن والآثار للبیہقی رقم الحدیث 19056
- مسند احمد رقم الحدیث 11274، 11743
تحقیق
اسنادہ ضعیف جدا
سند میں مرکزی علتیں 2 ہیں:
- محمد بن قرظۃ مجھول راوی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے
- جابر بن یزید الجعفی کذاب راوی ہے
درج ذیل محدثین نے جابر جعفی پر جرح کی ہے:
امام بیہقی رحمہ اللّٰه نے اس پر جرح کی ہے: السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 16091
امام عقیلی رحمہ اللّٰه نے ضعیف راویوں میں شمار کیا ہے: الضعفاء الکبیر للعقیلی 1/191
امام ایوب سختیانی رحمہ اللّٰه نے کذاب کہا ہے۔
امام یحیی بن سعید القطان رحمہ اللّٰه اس پر جرح کرتے تھے
امام عبد الرحمن بن مھدی نے اس کو ترک کردیا تھا
الضعفاء الکبیر للعقیلی 1/191
امام یحیی بن معین رحمہ اللّٰه نے ضعیف کہا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللّٰه نے کہا کہ بہت جھوٹے دیکھیں ہیں پر جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا نہیں دیکھا
امام مسلم رحمہ اللّٰه نے اس پر جرح کی ہے
مقدمہ مسلم اور الکنی والاسماء میں متروک الحدیث کہا ہے
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے ضعیف رافضی کہا ہے: تقریب التہذیب 53
امام نسائی رحمہ اللّٰه نے متروک کوفی کہا ہے: الضعفاء والمتروکین للنسائی 1/28
امام جوز جانی رحمہ اللّٰه نے کذاب کہا ہے: الکامل لابن عدی 2/330
امام ابن عدی رحمہ اللّٰه نے مفصل جرح ذکر کی ہے: الکامل لابن عدی 2/327
اس کے علاوہ کئی آئمہ کرام رحمہم اللّٰہ نے جرح کر رکھی ہے
اب ان محدثین کے نام پیش خدمت ہیں جنہوں نے اس روایت پر جرح کی ہے
- بوصیری رحمہ اللّٰه
- حافظ ابن حزم رحمہ اللّٰه
- امام بیہقی رحمہ اللّٰه
- حافظ ابن عبد البر رحمہ اللّٰه
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے کہا اس کا دارومدار جابر جعفی پر اور اس کے شیخ محمد بن قرظۃ مجھول پر اور یہ بھی کہا محمد بن قرظۃ کا ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ سے سماع نہیں ہے
التلخیص الحبیر 4/63
امام دارقطنی رحمہ اللّٰه
العلل للدارقطنی 4/510
تنبیہ
قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اگر اس میں کوئی عیب پیدا ہو جائے اس کی قربانی جائز ہے اگرچہ یہ روایت ثابت نہیں، لیکن سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللّٰه عنہ کا قول صحیح سند سے موجود ہے: السنن الکبری للبیہقی 9/289
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب
قدوسی ریسرچ سینٹر