یوم عرفہ

11 اپریل، 2026   •   حافظ عبد الخالق قدوسی حفظہ اللہ

یوم عرفہ کی بہترین دعا؟

حدیث

حدثنا أبو عمرو مسلم بن عمرو قال حدثني عبد اللّٰه بن نافع عن حماد بن أبي حميد عن عمرو بن شعيب عن أببه عن جده أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال

خير الدعاء دعاء يوم عرفة وخير ما قلت أنا والنبيون من قبلي:

لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير

ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللّٰه عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:

سب سے بہتر دعا عرفہ والے دن کی ہے اور میں نے اب تک جو کچھ کہا ہے اور مجھ سے پہلے جو دوسرے نبیوں نے کہا ہے ان میں سب سے بہتر دعا یہ ہے:

لا الہ الااللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر۔

تخریج

  • سنن ترمذی رقم الحدیث 3585
  • مسند احمد رقم الحدیث 6961

تحقیق

وسندہ ضعیف۔

سند میں حماد بن ابی حمید ضعیف راوی ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللّٰه کا کلام پیش خدمت ہے:

ھذا حدیث غریب من ھذا الوجہ وحماد بن ابی حمید ھو محمد بن ابی حمید وھو ابو ابراھیم الانصاری المدینی ولیس ھو بالقوی عند اھل الحدیث۔

امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے راوی کا تعارف بھی کردیا اور جرح بھی۔

لھذا یہ روایت ضعیف ہے، ثابت نہیں ہے۔

عرفہ کے دن کا روزہ

حدیث

حدثنا قتيبة وأحمد بن عبدة الضبي قالا حدثنا حماد بن زيد عن غيلان بن جرير عن عبد اللّٰه بن معبد الزماني عن أبي قتادة أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال

صيام يوم عرفة إني أحتسب على اللّٰه أن يكفر السنة التي قبله والسنة التي بعده

ترجمہ

سیدنا ابو قتادہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:

میں اللّٰه تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ عرفہ کے دن کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہ مٹا دے گا۔

امام ترمذی رحمہ اللّٰه روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس باب میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللّٰه عنہ سے بھی روایت ہے، اھل علم نے عرفہ کے دن کے روزے کو مستحب کہا ہے مگر جو لوگ عرفات میں ہوں ان کے لیے مستحب نہیں۔

تخریج

  • سنن ترمذی رقم الحدیث 749

  • صحیح مسلم رقم الحدیث 1162

  • سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1730

  • مسند الحمیدی رقم الحدیث 433

  • صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 2087

  • مستخرج ابی عوانہ رقم الحدیث 2924

  • صحیح ابن حبان رقم الحدیث 3632

  • شرح السنۃ للبغوی رقم الحدیث 1790

  • السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 8382

تحقیق

ھذا حدیث صحیح۔

اس حدیث کو درج ذیل ائمہ رحمہم اللّٰه نے صحیح کہا ہے:

  • حافظ ابن عبد البر رحمہ اللّٰہ نے کہا:

    وھذا اسناد حسن صحیح۔

    التمھید لما فی المؤطا من المعانی والاسانید 21/162

  • امام بغوی رحمہ اللّٰہ نے کہا:

    ھذا حدیث صحیح۔

    شرح السنۃ للبغوی 6/344

  • امام ابو عوانہ رحمہ اللّٰہ نے صحیح کہا ہے۔

    مستخرج ابی عوانہ رقم الحدیث 2924

  • امام ابن حبان رحمہ اللّٰہ نے صحیح کہا ہے۔

  • امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰہ نے صحیح کہا ہے۔

  • امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے حسن کہا ہے۔

  • امام حاکم رحمہ اللّٰہ نے صحیح کہا ہے۔

  • امام ذھبی رحمہ اللّٰه نے حاکم کی موافقت میں صحیح کہا ہے۔

  • امام نسائی رحمہ اللّٰہ نے اس حدیث کو عمدہ قرار دیا ہے۔

    السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 2826

  • امام طبری رحمہ اللّٰہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے اور ساتھ ہی فرمایا کہ اس میں کوئی علت نہیں ہے۔

    تھذیب الآثار 1/290

  • امام بیہقی رحمہ اللّٰه نے صحیح ترین روایت کہا ہے۔

    شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 3504

خلاصۃ التحقیق

یہ حدیث بلا شبہ صحیح ہے۔

ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔


قدوسی ریسرچ سینٹر